ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔
المطففين
Al-Mutaffifin
The Defrauding·Meccan·36 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔
اور جب خود انہیں ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کمی کردیتے ہیں۔
کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔
ایک بڑے دن کے لیے۔
جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔
ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔
اور تم نے کیا سمجھا کہ سجین کیا ہے ؟
لکھا ہوا دفتر۔
تباہی اور ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
جو جھٹلا رہے ہیں جزا و سزا کے دن کو۔
اور نہیں جھٹلاتا اس دن کو مگر وہی کہ جو حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے۔
جب اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
نہیں ! بلکہ (اصل صورت حال یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔
نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔
پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔
پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !
نہیں ! یقینا نیکوکاروں کے کتاب یا اعمال نامے علیین میں ہوں گے۔
اور تمہیں کچھ اندازہ ہے وہ علیون کیا ہے ؟
لکھا ہوا دفتر۔
وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔
یقینا نیکوکار نعمتوں میں ہوں گے۔
وہ تختوں پر بیٹھے (مناظر ِجنت) دیکھ رہے ہوں گے۔
تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔
انہیں پلائی جائے گی خالص شراب جس پر مہر لگی ہوگی۔
اس کی مہر ہوگی مشک کی۔ اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔
اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔
یہ ایک چشمہ ہے جس پر جام نوشی کریں گے مقربین بارگاہ۔
یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔
اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔
اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو باتیں بناتے ہوئے لوٹتے تھے۔
اور جب وہ ان (اہل ایمان) کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔
جب کہ انہیں نہیں بھیجا گیا تھا ان پر نگران بنا کر۔
تو آج (قیامت) کے دن اہل ایمان ان کفار پر ہنس رہے ہیں۔
وہ تختوں پر بیٹھے (ان کا حشر) دیکھ رہے ہیں۔
بدلہ مل گیا نا کافروں کو اس کا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے !