اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ !
المدثر
Al-Muddaththir
The Cloaked One·Meccan·56 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
آپ ﷺ اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے۔
اور اپنے رب کو بڑا کرو !
اور اپنے کپڑوں کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجیے۔
اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔
اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجیے۔
اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔
جب صور میں پھونکا جائے گا۔
تو وہ دن بہت سخت دن ہوگا۔
کافروں پر وہ ہلکا نہیں ہوگا۔
آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا۔
اور اسے میں نے بہت سا مال دیا پھیلا ہوا۔
اور نگاہوں کے سامنے رہنے والے بیٹے دیے۔
اور میں نے اس کے لیے ہر قسم کا سامان خوب اچھی طرح سے تیار کردیا۔
پھر وہ چاہتا ہے کہ میں اسے اور بھی دوں !
ہرگز نہیں ! وہ تو ہماری آیات کا مخالف (اور دشمن بن گیا) ہے۔
میں اسے عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھوائوں گا۔
اس نے غور کیا اور کچھ اندازہ کیا۔
پس ہلاک ہوجائے اس نے کیسا غلط اندازہ ٹھہرایا۔
پھر ہلاک ہوجائے اس نے کیسا غلط اندازہ ٹھہرایا۔
پھر اس نے دیکھا۔
پھر تیوری چڑھائی اور منہ بسورا۔
پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔
پھر اس نے کہا کہ یہ تو بس جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔
یہ نہیں ہے مگر انسان کا کلام۔
میں عنقریب اسے ڈالوں گا سقر (دوزخ) میں !
اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ سقر کیا ہے ؟
وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی !
انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔
اس پر انیس (19) داروغے مقرر ہیں۔
اور ہم نے نہیں مقرر کیے جہنم کے داروغے مگر فرشتے اور ہم نے نہیں ٹھہرائی ان کی یہ تعداد مگر کافروں کی آزمائش کے لیے تاکہ جنہیں کتاب دی گئی تھی انہیں یقین آجائے اور جو اہل ایمان ہیں وہ ایمان میں بڑھیں اور نہ شک میں پڑیں اہل کتاب اور اہل ایمان اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور کفار بھی کہ بھلا اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ اسی طرح اللہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور کوئی نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے۔ اور یہ آیات صرف انسانوں کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔
کیوں نہیں قسم ہے چاند کی۔
اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔
اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے۔
یقینا یہ بہت بڑی باتوں میں سے ایک بات ہے۔
خبردار کرنے کے لیے انسانوں کو۔
جو بھی تم میں سے چاہے کہ وہ آگے بڑھے یا پیچھے رہ جائے۔
ہر جان رہن ہے اس کے عوض جو کچھ کہ اس نے کمایا ہے۔
سوائے ان لوگوں کے جو داہنے والے ہوں گے۔
وہ جنتوں میں ہوں گے پوچھتے ہوں گے۔
گنہگاروں کے بارے میں۔
تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا ؟
وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔
اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔
اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔
اور (سب سے بڑھ کر یہ کہ) ہم جزاء وسزا کے دن کا انکار کرتے رہے۔
یہاں تک کہ ہمیں موت نے آلیا۔
تو اب ان کے لیے نفع بخش نہیں ہوگی شفاعت کرنے والوں کی کوئی شفاعت۔
تو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس یاد دہانی (قرآن) سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں ؟
گویا وہ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں۔
جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو پکڑا دیے جائیں کھلے صحیفے۔
ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے کہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔
ہرگز نہیں ! یہ تو بس ایک یاد دہانی ہے۔
اب جو چاہے اس سے نصیحت اخذ کرلے۔
اور یہ لوگ نصیحت اخذ نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق ہے اور وہی مغفرت کا مجاز۔