اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ !
المزمل
Al-Muzzammil
The Enshrouded One·Meccan·20 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
آپ کھڑے رہا کریں رات کو (نماز میں) سوائے اس کے تھوڑے سے حصے کے۔
(یعنی) اس کا آدھا یا اس سے تھوڑا کم کر لیجیے۔
یا اس پر تھوڑا بڑھا لیں اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے جایئے۔
ہم عنقریب آپ ﷺ پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔
یقینا رات کا جاگنا بہت موثر ہے نفس کو زیر کرنے کے لیے اور بات کو زیادہ درست رکھنے والا ہے۔
یقینا دن کے اوقات میں تو آپ ﷺ کے لیے بڑی مصروفیات ہیں۔
اور آپ ﷺ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں اور ہر طرف سے کٹ کر بس اسی کے ہو رہیں۔
وہ رب ہے مشرق کا بھی اور مغرب کا بھی اس کے سوا کوئی معبود نہیں بس آپ اسی کو بنا لیجیے اپناکارساز۔
اور جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے اور ان کو چھوڑ دیجیے بڑی خوبصورتی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے۔
آپ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں اور ابھی آپ انہیں تھوڑی سی مہلت دیں۔
ہمارے پاس ان کے لیے بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے۔
اور وہ کھانا جو حلق میں اٹک جائے گا اور دردناک عذاب ہے۔
جس دن کہ زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے بکھرتے تودے بن جائیں گے۔
(اے لوگو !) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول ﷺ بھیج دیا ہے تم پر گواہ بنا کر۔ جیسے کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف بھی ایک رسول۔
پس فرعون نے نافرمانی کی ہمارے رسول ؑ کی تو ہم نے پکڑ لیا اس کو بڑے وبال والی پکڑ۔
اب اگر تم کفر کرو گے تو تم کیسے بچ جائو گے اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا
آسمان اس سے پھٹ پڑنے والا ہے اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
یقینا یہ ایک یاددہانی ہے۔ تو جو کوئی بھی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔
(اے نبی ﷺ !) یقینا آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی رات کے قریب کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں ان میں سے بھی ایک جماعت آپ کے ساتھ (کھڑی) ہوتی ہے۔ اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ کرتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کی پابندی نہیں کرسکو گے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی ہے تو اب قرآن سے جتنا بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اللہ کے علم میں ہے کہ تم میں کچھ لوگ مریض ہوں گے اور بعض دوسرے زمین میں سفر کریں گے اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہوں گے اور کچھ اللہ کی راہ میں قتال کر رہے ہوں گے چناچہ جس قدر تمہارے لیے آسان ہو اس میں سے پڑھ لیا کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو۔ اور جو بھلائی بھی تم آگے بھیجو گے اپنی جانوں کے لیے اسے موجود پائو گے اللہ کے پاس بہتر اور اجر میں بڑھ کر۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔ یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا رحمت فرمانے والا ہے۔