(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے بڑے غور سے سنا تو انہوں نے (جا کر دوسرے جنات سے) کہا کہ ہم نے سنا ہے ایک بہت ہی دل کو لبھانے والا قرآن۔
الجن
Al-Jinn
The Jinn·Meccan·28 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
اور یہ کہ ہمارے ربّ کی شان بہت بلند ہے اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔
اور یقینا ہمارا بیوقوف (سردار) اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔
اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔
اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انہوں نے ان (جنات) کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔
اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔
اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔
اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے کچھ سن گن لینے کے لیے۔ لیکن اب اگر کسی نے کچھ سننے کی کوشش کی تو وہ پائے گا اپنے واسطے ایک انگارہ گھات میں لگا ہوا۔
اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔
اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔ ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔
اور یہ کہ ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں۔
اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت (الہدیٰ) کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔
اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصافی کرنے والے بھی۔ تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔
اور جو بےانصاف ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔
اور (اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔
تاکہ ہم اس (فراوانی) میں ان کی آزمائش کریں۔ اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔
اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو !
اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔
(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ ہی میں اس کے علاوہ سر چھپانے کی کوئی جگہ پائوں گا۔
بس (میرا فرض) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔ اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔
آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔
وہی ہے غیب کا جاننے والا پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔
سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔
تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔