یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔
الفتح
Al-Fath
The Victory·Medinan·29 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تا کہ اللہ بخش دے آپ کی کوئی کوتاہیاں جو پیچھے ہوئیں اور جو بعد میں ہوئیں اور تاکہ اللہ اپنی نعمت کا اتمام فرما دے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی راہنمائی کرے سیدھے راستے کی طرف۔
اور اللہ آپ کی مدد کرے گا بہت زبردست مدد۔
وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل کردی تاکہ وہ اضافہ کرلیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا } اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر تو اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
تا کہ وہ داخل کرے اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کو ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور دور کر دے ان سے ان کی برائیوں کو اور یہی ہے اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی۔
اور (تاکہ) اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں بہت ُ برے گمان رکھنے والے ہیں انہی پر مسلط ہے برائی کا دائرہ۔ اور اللہ ان پر غضبناک ہوا ہے اور اس نے ان پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی۔
اور آسمانوں اور زمین کے لشکر ُ کل کے کل اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ اور اللہ زبردست ہے کمال حکمت والا
} (اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر۔
تا کہ (اے مسلمانو !) تم ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور رسول کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو } اور تاکہ تم اللہ کی تسبیح کرو صبح وشام۔
(اے نبی ﷺ !) یقینا وہ لوگ جو آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ حقیقت میں اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے تو اب جو کوئی اس کو توڑے گا تو اس کے توڑنے کا وبال اپنے اوپر ہی لے گا } اور جو کوئی پورا کرے گا اس معاہدے کو جو وہ اللہ سے کر رہا ہے تو وہ اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
عنقریب آپ ﷺ سے کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے والے تھے دیہاتیوں میں سے ہمیں مشغول رکھا ہمارے اموال اور اہل و عیال (کی دیکھ بھال) نے چناچہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجیے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ کون ہے جو کچھ اختیار رکھتا ہو تمہارے بارے میں اللہ کی طرف سے کچھ بھی اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے یا تمہیں نفع پہنچانے کا ارادہ کرے ؟ } بلکہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
بلکہ تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب رسول اور اہل ِایمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برا گمان کیا اور تم ہو ہی تباہ ہونے والے لوگ۔
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ رکھے تو ہم نے ان کافروں کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے وہ بخشے گا جس کو چاہے گا اور عذاب دے گا جس کو چاہے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
(اے مسلمانو !) عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے جب تم لوگ غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جائو گے کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کردیں آپ ﷺ کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جائو گے یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔ اس پر وہ کہیں گے : بلکہ آپ لوگ ہم سے حسد کر رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فہم ہی نہیں رکھتے مگر بہت کم۔
ان بدوئوں میں سے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تمہیں بلایا جائے گا ایک ایسی قوم کے ساتھ مقابلے کے لیے جو بہت طاقتور ہوگی یا تو تم ان سے قتال کرو گے یا وہ اطاعت قبول کرلیں گے تو اس وقت اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہت اچھا اجر دے گا۔ } لیکن اگر تم نے (اس موقع پر بھی) پیٹھ دکھا دی جیسے کہ تم نے پہلے پیٹھ دکھائی تھی تو وہ تمہیں بہت درد ناک عذاب دے گا۔
ہاں کسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ ہی کسی لنگڑے پر اور نہ ہی کسی مریض پر کوئی تنگی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ داخل کرے گا اس کو ان باغات مین جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔ } اور جو کوئی پیٹھ پھیر لے تو اسے وہ ایک دردناک عذاب سے دوچار کرے گا۔
اللہ راضی ہوگیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا } تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کردی اور انہیں (بدلے میں) ایک قریبی فتح بخشی
اور بہت سے اموالِ غنیمت جو وہ حاصل کریں گے۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
(اے مسلمانو !) اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے بہت سے اموالِ غنیمت کا جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ (فتح) تو اس نے تمہیں فوری طور پر عطاکر دی ہے اور اس نے روک لیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے } تاکہ یہ اہل ِایمان کے لیے ایک نشانی بن جائے اور وہ تمہاری راہنمائی فرمائے سیدھے راستے کی طرف۔
اور کچھ (فتوحات) اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
اور اگر یہ کافر (قریش ِمکہ) ّتم سے جنگ کرتے تو لازماً پیٹھ پھیر جاتے اور پھر نہ پاتے وہ اپنے لیے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔
یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ } اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔
اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے اور تمہارے ہاتھ ان کی طرف بڑھنے سے مکہ کی وادی میں اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر فتح دے دی تھی۔ } اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں روکے رکھا مسجد ِحرام تک جانے سے اور قربانی کے جانور بھی روکے گئے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر نہ ہوتے (مکہ میں موجود) ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے اندیشہ تھا کہ تم لوگ انہیں بھی کچل دیتے تو ان کے بارے میں تم پر الزام آتا بیخبر ی میں (تو جنگ نہ روکی جاتی) (جنگ اس لیے روکی گئی) تاکہ اللہ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے۔ } اگر وہ (اہل ِایمان) علیحدہ ہوچکے ہوتے تو ان (اہل ّمکہ) میں سے جو کافر تھے ان کو ہم ایک دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتے۔
جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھالی جاہلیت کی حمیت تو اللہ نے سکینت نازل کردی اپنے رسول ﷺ پر اور اہل ایمان پر اور اس نے لازم کردیا ان پر تقویٰ کی بات کو اور وہ اس کے زیادہ حق دار بھی ہیں اور اس کے اہل بھی ہیں۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔
اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ (اے مسلمانو !) تم لازماً داخل ہو گے مسجد الحرام میں ان شاء اللہ پورے امن کے ساتھ اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو ترشواتے ہوئے (اُس وقت) تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ } تو اللہ وہ کچھ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے تو اس کے علاوہ اس نے (تمہارے لیے) ایک قریب کی فتح بھی رکھی ہے۔
وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ وہ غالب کر دے اسے ُ کل کے کل نظام زندگی پر اور کافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔
محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں تم دیکھو گے انہیں رکوع کرتے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے وہ (ہر آن) اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں ان کی پہچان ان کے چہروں پر (ظاہر) ہے سجدوں کے اثرات کی وجہ سے یہ ہے ان کی مثال تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے نکالی اپنی کو نپل پھر اس کو تقویت دی پھر وہ سخت ہوئی پھر وہ اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی یہ کا شتکار کو بڑی بھلی لگتی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلائے } اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے مغفرت اور اجر عظیم کا