جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا (اور خود بھی رکے) اللہ نے ان کی ساری جدوجہد کو رائیگاں کردیا۔
محمد
Muhammad
Muhammad·Medinan·38 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور جو ایمان لائے اس شے پر جو نازل کی گئی محمد ﷺ پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے } اللہ نے دور کردیں ان سے ان کی خطائیں اور ان کے حال کو سنوار دیا۔
یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔
تو (اے مسلمانو !) جب تمہاری مڈ بھیڑ ہو کافروں سے تو ان کی گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح سے ُ کچل دو تب انہیں مضبوطی کے ساتھ باندھو پھر اس کے بعد (تم انہیں چھوڑ سکتے ہو) احسان کر کے یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے (اس بارے میں حکم) اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا لیکن اللہ آزماتا ہے تمہارے بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے سے } اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوگئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
وہ ان کی راہنمائی کرے گا اور ان کے احوال کو سنوار دے گا۔
اور داخل کرے گا انہیں جنت میں جس کی ان کو پہچان کرا دی ہے۔
} اے اہل ِایمان ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔
اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو ان کے لیے نا کامی ہے اور وہ ان کے تمام اعمال کو برباد کر دے گا۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے تمام اعمال کو ضائع کردیا۔
تو کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اللہ نے ان پر ہلاکت کو مسلط کردیا اور ان کافروں کے لیے بھی ان ہی کی مثالیں ہوں گی۔
یہ اس لیے کہ اللہ مولیٰ (پشت پناہ) ہے اہل ایمان کا اور یہ کہ کافروں کا کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔
یقینا اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور ایسے کھا رہے ہیں جیسے حیوانات کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔
اور (اے نبی ﷺ !) کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو کہیں زیادہ قوت کی حامل تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکالا ہے۔ انہیں ہم نے ہلاک کردیا پس ان کا کوئی مد دگارنہ ہوا۔
تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جس کے لیے اس کے ُ برے اعمال مزین ّکر دیے گئے ہیں اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔
مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔ اس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی ُ بو نہیں۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔ اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔ اور نہریں ہیں صاف شفاف شہد کی۔ اور (مزید برآں) ان کے لیے ہوں گے اس میں ہر قسم کے پھل اور مغفرت ہوگی ان کے رب کی طرف سے } اُن جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور انہیں پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔
اور (اے نبی ﷺ !) ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر باہر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے کہ ابھی انہوں (محمد ﷺ نے کیا کہا تھا ؟ } یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔
اور وہ لوگ جو ہدایت پر ہیں اللہ نے ان کی ہدایت میں اور اضافہ کردیا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرمایا ہے۔
تو یہ لوگ اب کس چیز کے منتظر ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آدھمکے ان پر اچانک ؟ پس اس کی علامات تو ظاہر ہو ہی چکی ہیں تو جب وہ ان پر آدھمکے گی تو اس وقت ان کا نصیحت حاصل کرنا کس کام کا ہوگا ؟
بس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی خطائوں کے لیے (اللہ سے) استغفار کرو اور اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کے لیے بھی (استغفار کریں) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے لوٹنے کی جگہ کو اور تمہارے مستقل ٹھکانے کو۔
اور یہ لوگ جو ایمان کے دعویدار ہیں کہتے ہیں کہ (قتال کے بارے میں) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ پھر جب ایک محکم سورت نازل کردی گئی اور اس میں قتال کا حکم آگیا تو اب آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی طرف ایسے دیکھیں گے جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہوتی ہے تو بربادی ہے ان کے لیے۔
اطاعت لازم ہے اور کوئی بھلی بات کہی جاسکتی ہے تو جب کوئی فیصلہ طے پا جائے تو پھر اگر وہ اللہ سے (اپنے ایمان کے وعدے میں) سچے ثابت ہوں تبھی ان کے لیے بہتری ہے۔
پس تم سے اس کے سوا کچھ متوقع نہیں ہے کہ اگر تم لوگوں کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد مچائو گے اور اپنے رحمی رشتے کاٹو گے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے پس ان کے کانوں کو بہرا اور ان کی نگاہوں کو اندھا کردیا ہے۔
کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں۔
یقینا وہ لوگ جو پھرگئے اپنی پیٹھوں کے َبل اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہوچکی شیطان نے ان کے لیے (ارتداد کا یہ مرحلہ) آسان کردیا ہے اور انہیں لمبی لمبی امیدیں دلائی ہیں۔
یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہیں اللہ کا نازل کیا ہوا (قرآن) ناپسند ہے کہا کہ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت جاری رکھیں گے۔ اور اللہ کو ان کی خفیہ باتوں کا خوب علم ہے۔
تو کیا حال ہوگا (ان کا اس وقت) جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے ضربیں لگاتے ہوئے ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر
یہ اس لیے کہ انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہے اور انہوں نے ناپسند کیا اس کی رضا کو تو اس نے ان کے تمام اعمال اکارت کردیے۔
کیا سمجھ رکھا تھا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ان کے کھوٹ کو ظاہر نہیں کرے گا ؟ اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔
اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو یہ لوگ دکھا دیں اس طرح کہ آپ ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیں گے۔ اور آپ انہیں لازماً پہچان لیں گے (ان کی) گفتگو کے انداز سے۔ اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔
یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جو روکتے رہے دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور وہ رسول ﷺ کی مخالفت میں سرگرم رہے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح ہوچکی تھی وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور وہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔
اے اہل ِایمان ! تم لوگ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور کہیں اپنے اعمال ضائع نہ کر بیٹھنا۔
یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے رکے رہے (اور دوسروں کو بھی روکتے رہے) پھر وہ مرگئے اس حالت میں کہ کافر ہی رہے تو ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز نہیں بخشے گا۔
تو (اے مسلمانو !) تم لوگ ڈھیلے نہ پڑو اور صلح و سلامتی کی دعوت مت دو } اور تم لوگ ہی غالب ہو گے اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل ہے اور کچھ جی کا بہلانا ہے۔ اور اگر تم لوگ ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کیے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔
اگر وہ تم سے ان (اموال) کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے تو تم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے (دلوں کے) کھوٹ کو۔
تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔ } اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔