اللہ کا حکم آن پہنچا ہے پس تم جلدی مت مچاؤ وہ پاک اور بلند وبالا ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں
النحل
An-Nahl
The Bee·Meccan·128 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وہ اتارتا ہے فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے کہ خبردار کر دو (میرے بندوں کو) کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے پس تم میرا ہی تقویٰ اختیار کرو
اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔ وہ بہت بلند ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں
اس نے پیدا کیا انسان کو گندے پانی کی بوند سے پھر یکایک وہ بن گیا کھلا جھگڑالو
اور چوپایوں کو بھی اس نے پیدا کیا ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان اور کئی دوسرے فائدے بھی ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو
اور تمہارے لیے ان میں بڑی شان و شوکت ہے جب تم شام کو انہیں چرا کر لاتے ہو اور جب (صبح کے وقت) چرانے کے لیے لے جاتے ہو
اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں ایسی بستیوں کی طرف جن تک تم نہیں پہنچنے والے ہوتے مگر جان توڑ کر یقیناً تمہارا رب شفقت فرمانے والا مہربان ہے
اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ تم ان پر سواری کرو اور (تمہارے لیے ہے ان میں) زینت بھی اور (ایسی چیزیں بھی) وہ پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم ہی نہیں
اور اللہ تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے اور ان میں کچھ ٹیڑھے بھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا
وہی ہے جس نے اتارا ہے آسمان سے تمہارے لیے پانی اسی سے ہے (تمہارا) پینا اور اسی سے ہیں درخت (نباتات وغیرہ) جن میں تم (اپنے جانوروں کو) چراتے ہو
وہ اگاتا ہے تمہارے لیے اس (پانی) سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے پھل یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں
اور اس نے مسخر کردیا تمہارے لیے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو اور ستارے بھی مسخر ہیں اسی کے حکم سے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے
اور جو چیزیں اس نے پھیلا دی ہیں تمہارے لیے زمین میں ان کے مختلف رنگ ہیں یقیناً اس میں بھی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت اخذ کریں
اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری ضروریات پوری کرنے میں لگا دیا ہے تاکہ تم کھاؤ اس سے تازہ گوشت اور تاکہ تم نکالو اس میں سے بناؤ سنگھار کا سامان جو تم پہنتے ہو اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں اس (سمندر) میں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو
اور اس نے زمین میں لنگر ڈال دیے ہیں کہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں (ندیاں بہا دی ہیں) اور راستے (بنا دیے ہیں) تاکہ تم اپنی منزلوں تک پہنچا کرو
اور دوسری علامتیں بھی ہیں۔ اور وہ ستاروں سے بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں
تو کیا جو (یہ سب کچھ) پیدا کرتا ہے ان کی طرح ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہیں کرتے ؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکو گے یقیناً اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو
اور جن کو یہ پکارتے ہیں اللہ کے سوا وہ کچھ پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں
مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے
تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں
کوئی شک نہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں یقیناً وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں
تا کہ یہ اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) بوجھ پورے کے پورے قیامت کے دن اور کچھ ان لوگوں کے بوجھ بھی جنہیں یہ گمراہ کر رہے ہیں لاعلمی میں آگاہ رہو ! بہت برا ہوگا جو بوجھ وہ اٹھائے ہوں گے
(اسی طرح کی) چالیں چلی تھیں انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے تو اللہ حملہ آور ہوا ان کے قلعوں پر بنیادوں سے پھر گرپڑیں ان پر چھتیں ان کے اوپر سے اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان تک نہ تھا
پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا : کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی حمیت میں تم جھگڑتے تھے کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ یقیناً آج کے دن رسوائی اور بد بختی کافروں ہی کے لیے ہے
جن (کی روحوں) کو قبض کرتے ہیں فرشتے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے تو (اس وقت) وہ اطاعت پیش کریں گے کہ ہم تو کوئی برے کام نہیں کر رہے تھے (تو فرشتے کہیں گے) کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے اسے جو کچھ تم کر رہے تھے
اب تم داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں اسی میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے پس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبرین کا
اور (جب) پوچھا جاتا ہے اہل تقویٰ سے کہ یہ کیا نازل کیا ہے تمہارے رب نے وہ کہتے ہیں بھلائی جن لوگوں نے نیکی کی روش اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے۔ اور کیا ہی اچھا ہے وہ گھر متقیوں کا
باغات ہمیشہ رہنے والے جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ان کے لیے وہاں ہر وہ شے ہوگی جو وہ چاہیں گے اسی طرح اللہ بدلہ دے گا اپنے متقی بندوں کو
ان (کی روحوں) کو فرشتے قبض کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں کہتے ہیں سلام ہو آپ پر داخل ہوجائیے جنت میں اپنے اعمال کے بدلے میں
اب یہ لوگ کس شے کے منتظر ہیں سوائے اس کے کہ آ دھمکیں ان پر فرشتے یا آجائے فیصلہ آپ کے رب کا یہی روش اختیار کی تھی انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے۔ اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے
پھر ان پر واقع ہو کر رہیں وہ برائیاں جو وہ کرتے تھے اور گھیر لیا ان کو اسی نے جس کا وہ استہزا کرتے تھے
اور کہتے ہیں یہ مشرک لوگ کہ اگر اللہ چاہتا تو اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کرتے نہ ہم اور نہ ہمارے آباء و اَجداد اور نہ حرام قرار دیتے ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی بھی چیز کو۔ اسی طرح کیا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے پس نہیں ہے رسولوں پر کچھ ذمہ داری سوائے واضح طور پر پہنچا دینے کے
اور ہم نے تو ہر امت میں ایک رسول بھیجا (اس پیغام کے ساتھ) کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو تو ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ وہ بھی تھے جن پر مسلط ہوگئی گمراہی تو تم گھومو پھرو زمین میں اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا
(اے نبی !) اگر آپ کو بہت خواہش ہے ان کی ہدایت کی تو یقیناً اللہ ہدایت نہیں دیتا اسے جس کو وہ گمراہ کردیتا ہے اور ان کے لیے نہیں ہوں گے کوئی مدد گار
اور وہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں اپنی پکی قسمیں کہ اللہ ہرگز نہیں اٹھائے گا اس کو جو مرجائے گا کیوں نہیں یہ وعدہ ہے اس کے ذمہ سچا (کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
تاکہ وہ واضح کر دے ان پر وہ تمام چیزیں جن میں وہ لوگ اختلاف کرتے تھے اور اس لیے بھی کہ کفار جان لیں کہ وہی جھوٹے تھے
ہمارا قول تو کسی چیز کے بارے میں بس یہ ہوتا ہے جب ہم اس کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرماتے ہیں اسے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
اور جن لوگوں نے اللہ کے لیے ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ہم انہیں دنیا میں بھی ضرور اچھی جگہ دیں گے اور (ان کے لیے) آخرت کا اجر تو بہت ہی بڑا ہے۔ کاش کہ ان کو معلوم ہوتا
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں
اور (اے نبی !) ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو (رسول بنا کر) جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے تو تم لوگ اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم خود نہیں جانتے ہو
(ہم نے انہیں بھیجا) کھلی نشانیوں اور کتابوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کیا آپ کی طرف الذکر تاکہ آپ واضح کردیں لوگوں کے لیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی جانب اور تاکہ وہ غور و فکر کریں
تو کیا بےخوف ہوگئے ہیں وہ لوگ جنہوں نے بری چالیں چلیں اس بات سے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا (انہیں یہ خوف بھی نہیں رہا کہ) ان پر آدھمکے کوئی عذاب جہاں سے انہیں گمان تک نہ ہو
یا وہ انہیں پکڑ لے ان کی چلت پھرت میں پھر وہ (اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں ہیں
یا انہیں پکڑے خوف دلاکر۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر شے کی طرف کہ جھکتے ہیں اس کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ سب عاجزی (کی کیفیت) میں ہوتے ہیں
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں اور فرشتے بھی اور وہ تکبر سے کام نہیں لیتے
وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے اوپر اپنے رب سے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے
اور اللہ نے فرمایا ہے کہ دو معبود مت بناؤ یقیناً وہ تو ایک ہی معبود ہے پس تم مجھ ہی سے ڈرو
اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کے لیے اطاعت ہے ہمیشہ ہمیش تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کا تقویٰ اختیار کرتے ہو
اور جو نعمت بھی تمہیں میسر ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے سامنے تم فریاد کرتے ہو
پھر جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو جبھی تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا شروع کردیتا ہے
تا کہ ناشکری کریں ان (نعمتوں) کی جو ہم نے ان کو دی ہیں۔ تو چند روزہ مزے اڑا لو پس عنقریب تم جان لو گے
اور وہ بنا دیتے ہیں ان کے لیے جن کے بارے میں انہیں کوئی علم ہی نہیں ایک حصہ اس میں سے جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اللہ کی قسم ! ضرور سوال کیا جائے گا تم سے اس بارے میں جو افترا تم لوگ کرتے تھے
اور وہ بناتے ہیں اللہ کے لیے بیٹیاں وہ پاک ہے (اس سے) اور خود ان کے لیے وہ کچھ جو انہیں پسند ہے
اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ (اندر ہی اندر) رنج و غم سے گھٹتا رہتا ہے
وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے دی گئی کیا وہ اسے ذلتّ کے باوجود روکے رکھے یا مٹی میں دفن کر دے آگاہ رہو بہت ہی برا ہے جو فیصلہ وہ کرتے ہیں
ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بری مثال ہے اور اللہ کی صفت نہایت بلند ہے۔ اور وہ زبردست ہے کمال حکمت والا
اور اگر اللہ (فوراً) پکڑ کرتا لوگوں کی ان کے گناہوں کے سبب تو نہ چھوڑتا اس (زمین) پر کوئی بھی جاندار لیکن وہ مہلت دیتا ہے انہیں ایک وقت معین تک پھر جب ان کا وقت معین آجائے گا تو نہ وہ اس سے ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے
اور وہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے لیے جو وہ خود پسند نہیں کرتے اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کر رہی ہیں کہ ان کے لیے یقیناً بھلائی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے لیے آگ ہے اور یہ کہ وہ بڑھائے جا رہے ہیں
اللہ کی قسم ! ہم نے بھیجا (اپنے رسولوں کو) بہت سی امتوں کی طرف آپ سے پہلے لیکن شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کیے رکھا تو آج وہی ان کا ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
اور نہیں اتاری (اے محمد !) ہم نے آپ پر یہ کتاب مگر اس لیے کہ آپ واضح کردیں ان کے لیے وہ سب کچھ جس میں انہوں نے اختلاف کیا اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں
اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زندہ کردیا زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہوں
اور یقیناً تمہارے لیے چوپایوں میں بھی عبرت ہے ہم پلاتے ہیں تمہیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہوتا ہے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار
اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی ان سے تم نشہ آور چیزیں بھی بناتے ہو اور اچھا رزق بھی یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں
اور آپ کے رب نے وحی کی شہد کی مکھی کی طرف کہ گھر بنا پہاڑوں میں درختوں میں اور لوگ (انگوروں کی بیلوں کے لیے) جو چھتریاں بناتے ہیں ان میں
پھر ہر طرح کے میووں میں سے کھا اور اپنے رب کے ہموار کیے ہوئے راستوں پر چلتی رہ نکلتی ہے ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک شے (شہد) جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
اور اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں وفات دے گا اور تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ناکارہ عمر کو لوٹا دیے جاتے ہیں کہ نہ جانے علم رکھنے کے بعد کچھ بھی۔ یقیناً اللہ جاننے والا قدرت والا ہے
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے تو نہیں ہیں وہ لوگ جنہیں (رزق میں) فضیلت دی گئی ہے لوٹانے والے اپنا رزق اپنے غلاموں کو کہ وہ ہوجائیں اس میں برابر تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کر رہے ہیں
اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی نوع سے بیویاں بنائیں اور بنائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ چیزوں سے تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں
اور یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا ان کی جنہیں کچھ اختیار نہیں ان کے لیے کسی رزق کا نہ آسمانوں سے اور نہ زمین سے اور نہ وہ اس کی قدرت ہی رکھتے ہیں
تو اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کیا کرو بیشک اللہ جانتا ہے تم نہیں جاتے
اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک غلام مملوک کی جو اختیار نہیں رکھتا کسی چیز پر بھی اور (ایک وہ ہے) جس کو ہم نے اپنے پاس سے بہت اچھا رزق دیا ہے اور وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپ کر بھی اور علانیہ بھی کیا یہ (دونوں) برابر ہیں ؟ کل تعریف اور شکر اللہ کے لیے ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
اور اللہ نے (اب ایک اور) مثال بیان کی دو اشخاص کی ان میں سے ایک گونگا ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کسی بھی چیز پر اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جہاں کہیں بھی وہ (آقا) اسے بھیجتا ہے وہ کوئی خیر لے کر نہیں آتا کیا برابر ہوگا وہ اور وہ جو حکم دیتا ہے عدل کا اور وہ سیدھی راہ پر قائم ہے
اور آسمانوں اور زمین کی ساری چھپی باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور قیا مت کا معاملہ تو ایسے ہے جیسے نگاہ کا لپکنا یا (ممکن ہے) وہ اس سے بھی قریب تر ہو۔ یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے
اور اللہ نے تمہیں نکالا تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے جبکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور تمہارے لیے سماعت بصارت اور عقل بنائی تاکہ تم شکر کرو
کیا یہ دیکھتے نہیں پرندوں کو کہ وہ آسمان کی فضا میں مسخر ہیں انہیں نہیں تھاما ہوا کسی نے سوائے اللہ کے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہوں
اور اللہ نے تمہارے گھروں میں تمہارے لیے سکونت کی جگہ بنائی ہے اور اس نے بنا دیے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے ایسے گھر (خیمے) جنہیں تم بہت ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ اور قیام کے دن اور (اس نے بنایا تمہارے لیے) ان (بھیڑوں) کی اون سے اور ان (اونٹوں اور بکریوں) کے بالوں سے سامان اور برتنے کی چیزیں ایک خاص وقت تک کے لیے
اور اللہ ہی نے بنایا تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے سایہ اور اسی نے بنائیں تمہارے لیے پہاڑوں کے اندر پناہ گاہیں اور بنائے تمہارے لیے ایسے لباس جو تمہیں بچاتے ہیں گرمی سے اور ایسے لباس (زرہیں) جو تمہیں بچاتے ہیں تمہاری لڑائی میں اسی طرح وہ اتمام فرماتا ہے اپنی نعمت کا تم پر تاکہ تم اطاعت کی روش اختیار کرو
تو (اے نبی !) اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو آپ پر تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے
یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر منکر ہوجاتے ہیں اور ان میں اکثر نا شکرے ہیں
اور جس دن ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ پھر کافروں کو نہ (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ہی ان کو عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا
اور جب یہ ظالم دیکھ لیں گے عذاب کو تو پھر اسے ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی
اور جب مشرک لوگ دیکھیں گے اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے تو وہ پھینک دیں گے یہ بات انہی کی طرف کہ تم لوگ یقیناً جھوٹ بول رہے ہو
اور وہ (سب کے سب) اس روز اللہ کے حضور عاجزی پیش کریں گے اور گم ہوجائیں گے ان سے (وہ عقائد) جو وہ گھڑا کرتے تھے
وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے رہے (دوسروں کو) اللہ کے راستے سے ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کرتے جائیں گے بسبب اس فساد کے جو وہ کرتے تھے
اور (ذرا تصور کرو اس دن کا) جس دن ہم ہر امت میں کھڑا کریں گے ایک گواہ ان پر ان ہی میں سے اور آپ کو کھڑا کریں گے گواہ (بنا کر) ان کے خلاف اور (اے نبی !) ہم نے اتار دی ہے آپ پر یہ کتاب وضاحت کرتی ہوئی ہر شے کی اور یہ ہدایت رحمت اور بشارت (بن کر آئی) ہے مسلمانوں کے لیے
یقیناً اللہ حکم دیتا ہے عدل کا احسان کا اور قرابت داروں کو (ان کے حقوق) ادا کرنے کا اور وہ روکتا ہے بےحیائی برائی اور سرکشی سے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو
اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم عہد کرچکے ہو اور اپنی قسموں کو مت توڑو مضبوطی سے باندھنے کے بعد جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ ٹھہرا چکے ہو یقیناً اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
اور مت ہوجاؤ اس (دیوانی) عورت کی مانند جس نے اپنا سوت توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا مضبوطی (سے کاتنے) کے بعد تم اپنی قسموں کو اپنے مابین دخل دینے کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ نہ ہوجائے ایک قوم بڑھی ہوئی دوسری قوم سے یقیناً اللہ تمہیں آزما رہا ہے اس کے ذریعے سے اور وہ ضرور ظاہر کرے گا تم پر قیامت کے دن وہ سب کچھ جس میں تم لوگ اختلاف کرتے تھے
اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا اس بارے میں جو کچھ تم کرتے تھے
اور مت بناؤ اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے کا ذریعہ کہ پھسل جائے کوئی قدم پختگی کے بعد اور تمہیں عذاب کا مزہ چکھنا پڑے بسبب اس کے کہ تم نے (لوگوں کو) روکا اللہ کے راستے سے اور تمہارے لیے (اس کی پاداش میں) بہت بڑا عذاب ہے
اور اللہ کے اس عہد کو حقیر سی قیمت کے عوض فروخت نہ کرو یقیناً اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہت بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم علم رکھتے ہو
جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم لازماً دیں گے صبر کرنے والوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق
جس کسی نے بھی نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ہو وہ مؤمن تو ہم اسے (دُنیا میں) ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ہم انہیں ضرور دیں گے ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق
تو جب آپ قرآن پڑھیں تو اللہ کی پناہ طلب کر لیجیے شیطان مردود سے
اس کا کچھ بھی زور نہیں چلتا ان لوگوں پر جو ایمان لائے ہیں اور جو اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
اس کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور جو اس کو (اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہرانے والے ہیں
اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے یہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ آپ خود ہی (اسے) گھڑنے والے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر علم نہیں رکھتے
آپ کہیے کہ اسے نازل کیا ہے روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تاکہ وہ ثابت قدم رکھے اہل ایمان کو اور یہ ہدایت اور خوشخبری ہو فرماں برداروں کے لیے
اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے یہ لوگ جس کی طرف غلط طور پر منسوب کر رہے ہیں اس کی زبان تو (ان کے بقول) عجمی ہے اور یہ (قرآن) فصیح عربی زبان ہے
یقیناً جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے اللہ انہیں ہدایت نہیں دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ ہیں جو جھوٹے ہیں
اور جو کوئی کفر کرے اللہ کا اپنے ایمان لانے کے بعد سوائے اس کے کہ کوئی شخص مجبور کردیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو مگر جس نے کھول دیا کفر کے ساتھ (اپنا) سینہ تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے
یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو محبوب رکھا آخرت کے مقابلے میں اور یہ (اللہ کا قاعدہ ہے) کہ اللہ ایسے کافروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اور یہی لوگ ہیں جو غافل ہیں
اب اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے والے ہوں گے
پھر یقیناً آپ کا رب ان کے حق میں جنہوں نے ہجرت کی اس کے بعد کہ انہیں تکالیف پہنچائی گئیں پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا یقیناً آپ کا رب اس (سب کچھ) کے بعد بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
جس دن آئے گی ہر جان اپنی طرف سے مدافعت کرتے ہوئے اور (بدلہ میں) پورا پورا دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ اس نے کمایا ہوگا اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
اور اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک بستی کی جو بالکل امن و اطمینان کی حالت میں تھی آتا تھا اس کے پاس اس کا رزق با فراغت ہر طرف سے تو اس نے نا شکری کی اللہ کی نعمتوں کی تو اسے چکھا (پہنا) دیا اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں
اور آیا ان کے پاس ایک رسول انہی میں سے تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا پس آپکڑا انہیں عذاب نے اور وہ خود ہی ظالم تھے
پس (اے اہل ایمان) تم کھایا کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے حلال اور پاکیزہ چیزیں اور اللہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو
اس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مردار خون خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی مجبور ہوجائے (لیکن) نہ وہ طالب ہو نہ حد سے بڑھنے والا تو اللہ یقیناً بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
اور مت کہوجس کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ گھڑتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرو یقیناً جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے
برتنے کا سامان ہے (دُنیوی زندگی میں) تھوڑا سا اور پھر ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے
اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ہم نے حرام کی تھیں (وہ چیزیں) جو ہم بیان کرچکے ہیں آپ پر اس سے پہلے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے
پھر یقیناً آپ کا رب ان لوگوں کے حق میں جو جہالت سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر اس کے بعد وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو یقیناً آپ کا رب اس کے بعد بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
یقیناً ابراہیم ایک امت تھے اللہ کے لیے فرمانبردار اور یکسو اور آپ مشرکین میں سے نہیں تھے
شکر گزار تھے اس کی نعمتوں کے۔ اللہ نے ان کو پسند کرلیا تھا اور ان کو ہدایت دی تھی سیدھی راہ کی طرف
اور ان کو ہم نے دنیا میں بھی بھلائی عطا کی تھی اور یقیناً آخرت میں بھی وہ نیک بندوں میں سے ہوں گے
پھر (اے محمد !) ہم نے وحی کی آپ کی طرف کہ پیروی کیجئے ملت ابراہیم کی یکسو ہو کر اور وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھے
ہفتہ کا دن تو انہی لوگوں کے لیے معین کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا اور یقیناً آپ کا رب ان کے مابین فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے
آپ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے یقینا آپ کا رب خوب واقف ہے ان سے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو راہ ہدایت پر ہیں
اور (اے مسلمانو !) اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر جس قدر تمہیں تکلیف دی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے
اور (اے نبی !) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے اور آپ ان پر غم نہ کریں اور نہ آپ تنگی میں پڑیں اس بارے میں جو سازشیں یہ لوگ کر رہے تھے
یقیناً اللہ اہل تقویٰ اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے