کیا پہنچ چکی ہے آپ ﷺ کے پاس اس ڈھانپ لینے والی (آفت) کی خبر ؟
الغاشية
Al-Ghashiyah
The Overwhelming·Meccan·26 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔
مشقت زدہ تھکے ماندے۔
وہ داخل ہوں گے دہکتی ہوئی آگ میں۔
انہیں پلایا جائے گا پانی ایک کھولتے ہوئے چشمے سے۔
نہیں ہوگا ان کے لیے کھانے کو کچھ بھی سوائے خاردار جھاڑیوں کے۔
جو نہ تو موٹا کرے اور نہ ہی بھوک مٹائے۔
بہت سے چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے۔
وہ اپنی کوشش (کے نتائج) پر راضی ہوں گے۔
(وہ ہوں گے) عالی مقام جنت میں۔
وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔
اس میں ایک چشمہ ہے بہتا ہوا۔
اس میں اونچے اونچے تخت ہیں۔
اور جام قرینے سے رکھے ہوئے۔
اور قالین بچھے ہوئے صف در صف۔
اور مخمل کے نہالچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے۔
تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ انہیں کیسے بنایا گیا ہے !
اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا ہے !
اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑ دیے گئے ہیں !
اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) زمین کی طرف کہ کیسے بچھا دی گئی ہے !
تو (اے نبی ﷺ !) آپ یاد دہانی کراتے رہیے آپ تو بس یاد دہانی کرانے والے ہیں۔
آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔
مگر جس نے منہ موڑا اور کفر کیا۔
تو اس کو اللہ عذاب دے گا سب سے بڑا عذاب۔
(اے نبی ﷺ !) ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔