قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو غوطہ لگا کر کھینچتے ہیں۔
النازعات
An-Nazi'at
Those who drag forth·Meccan·46 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اور ان (فرشتوں) کی قسم جو گرہیں کھولتے ہیں آسانی سے۔
اور ان (فرشتوں) کی قسم جو تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔
پھر وہ (تعمیل ِارشاد میں) ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر (حسب حکم) معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔
جس دن کانپے گی کانپنے والی۔
اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا آئے گا۔
کتنے ہی دل اس دن (خوف کے مارے) دھڑک رہے ہوں گے۔
ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔
یہ لوگ کہتے ہیں : کیا ہمیں لوٹا دیا جائے گا الٹے پائوں ؟
کیا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوچکے ہوں گے ؟
کہتے ہیں : تب تو یہ لوٹنا بہت گھاٹے کا سودا ہوگا۔
حالانکہ یہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔
تو وہ سب کے سب ایک چٹیل میدان میں ہوں گے۔
کیا آپ تک موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟
جب اس کو پکارا تھا اس کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں۔
کہ جائو فرعون کے پاس وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔
اور اسے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے ؟
اور میں تمہاری راہنمائی کروں تمہارے رب کی طرف تاکہ تمہارے اندر خشیت پیدا ہو ؟
تو موسیٰ ؑ نے اس کو دکھائی بہت بڑی نشانی۔
لیکن اس نے جھٹلا دیا اور نافرمانی کی۔
پھر وہ پلٹا بھاگ دوڑ کرنے کے لیے۔
پھر اس نے (اپنی رعیت کو) جمع کیا اور اعلان کیا۔
پس کہا کہ میں ہوں تمہارا سب سے بڑا ربّ !
تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے آخرت اور دنیا کی سزا میں۔
یقینا اس میں عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے۔
(اے لوگو ! ذرا سوچو !) کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی ؟ اس نے اسے تخلیق کیا۔
اس کے گنبد کو بلند کیا پھر اسے ہر طرح سے درست کیا۔
اور اس کی رات کو اندھیرا کردیا اور اس کے دن کو ظاہر کردیا۔
اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا۔
اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔
اور پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا۔
سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے۔
پھر جب برپاہو گا وہ بڑا ہنگامہ۔
اس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اس نے بھاگ دوڑ کی تھی۔
اور کھول کر رکھ دی جائے گی جہنم ہر دیکھنے والے کے لیے۔
پس جس نے سرکشی کی تھی۔
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔
تویقینا اس کا ٹھکانہ اب جہنم ہی ہے۔
اور جو کوئی ڈرتا رہا اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے (کے خیال) سے
تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔
(اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں قیامت کے بارے میں کہ وہ کب آکرٹھہرے گی ؟
آپ ﷺ کا کیا تعلق ہے اس کے بیان کرنے سے ؟
اس کا انجام تو آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔
آپ ﷺ تو بس خبردار کرنے والے ہیں ہر اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو۔
جس دن وہ اسے دیکھیں گے (انہیں یوں لگے گا) گویا وہ نہیں رہے (دنیا میں) مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔