ا ل م ص۔
الأعراف
Al-A'raf
The Heights·Meccan·206 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
یہ کتاب ہے (اے نبی ﷺ جو آپ پر نازل کی گئی ہے تو نہیں ہونی چاہیے آپ کے دل میں کچھ تنگی اس کی وجہ سے (یہ تو اس لیے ہے) تاکہ اس کے ذریعے سے آپ ﷺ خبردارکریں اور یہ یاد دہانی ہے اہل ایمان کے لیے
پیروی کرو اس کی جو نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اور مت پیروی کرو اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی۔ کم ہی ہے جو نصیحت تم حاصل کرتے ہو
) اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر آپڑا ہمارا عذاب جب وہ رات کو سو رہے تھے یا جب دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے
تو پھر ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں تھی جب ان پر ہمارا عذاب آپڑا کہ (ہائے ہماری شامت) بیشک ہم ہی ظالم تھے
پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی
پھر ہم ان کے سامنے احوال بیان کریں گے علم کی بنیاد پر اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔
اور اس روزوزن ہوگا حق ہی میں (یا وزن ہی فیصلہ کن ہوگا) تو جس کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی ہوں گے فلاح پانے والے
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا بسبب اس کے کہ وہ ہماری آیات سے ناانصافی کرتے رہے
اور (دیکھو انسانو !) ہم نے تمہیں زمین میں تمکن عطا فرمایا اور اس میں تمہارے لیے معاش کے سارے سامان رکھ دیے (لیکن) بہت ہی کم ہے جو شکر تم کرتے ہو۔
اور ہم نے تمہیں تخلیق کیا پھر تمہاری تصویر کشی کی پھر ہم نے کہا فرشتوں سے کہ جھک جاؤ آدم کے سامنے تو سجدہ کیا سب نے سوائے ابلیس کے نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کس چیز نے تمہیں روکا کہ تم نے سجدہ نہیں کیا جب کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے بنایا ہے آگ سے اور اس کو بنایا ہے مٹی سے
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا پس اتر جاؤ اس سے تمہیں یہ حق نہیں تھا کہ تم اس میں تکبر کرو پس نکل جاؤ یقیناً تم ذلیل و خوار ہو
اس نے کہا (اے اللہ) مجھے مہلت دے اس دن تک جس دن انہیں (زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔
فرمایا (ٹھیک ہے جاؤ) تمہیں مہلت دی گئی۔
اس نے کہا (پروردگار !) تو نے جو مجھے (آدم کی وجہ سے) گمراہ کیا ہے تو اب میں لازماً ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا تیری سیدھی راہ پر۔
پھر میں ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سے اور تو نہیں پائے گا ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا۔
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا نکل جاؤ اس میں سے برے حال میں مردود ہو کر۔ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں (انہیں اور تم کو اکٹھا کر کے) تم سب سے جہنم کو بھر کر رہوں گا۔
اور (پھر ہم نے آدم سے کہا کہ) اے آدم ؑ رہو جنت میں تم اور تمہاری بیوی اور کھاؤ پیو اس میں سے جہاں سے تم دونوں چاہو اور (ہاں) اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے
تو شیطان نے ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا تاکہ ظاہر کر دے ان پر جو ان سے پوشیدہ تھیں ان کی شرمگاہیں اور اس نے کہا (وسوسہ اندازی کی) کہ نہیں روکا ہے آپ دونوں کو آپ کے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کہیں آپ فرشتے نہ بن جائیں یا کہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہ ہوجائیں
اور اس نے قسمیں کھا کھا کر ان کو یقین دلایا کہ میں آپ دونوں کے لیے بہت ہی خیر خواہ ہوں۔
تو اس نے دھوکہ دے کر انہیں مائل کر ہی لیا تو جب ان دونوں نے چکھ لیا اس درخت کے پھل کو تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے جنت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے) اور اب آواز دی ان دونوں کو ان کے رب نے کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا اس درخت سے اور کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔
(اس پر) وہ دونوں پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے
(اللہ نے) فرمایا تم سب اتر جاؤ (اب) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے اور (ضرورت کا) سازوسامان بھی ایک وقت معین تک
پھر فرمایا کہ (اب) تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تمہیں نکال لیا جائے گا
اے آدم ؑ کی اولاد ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور آرائش و زیبائش کا سبب بھی ہے اور (اس سے بڑھ کر) تقویٰ کا لباس جو ہے وہ سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت اخذ کریں
اے بنی آدم (دیکھو اب) شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے جیسے کہ تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوادیا تھا (اور) اس نے اتروا دیا تھا ان سے ان کا لباس تاکہ ان پر عیاں کر دے ان کی شرمگاہیں یقیناً وہ اور اس کی ذریت وہاں سے تم پر نظر رکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ نہیں سکتے ہم نے تو شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے
اور جب یہ لوگ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے پایا ہے یہی کچھ کرتے ہوئے اپنے آباء و اَجداد کو اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا تو کیا تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو وہ کچھ جس کا تمہیں کوئی علم نہیں
آپ ﷺ کہیے کہ میرے رب نے تو حکم دیا ہے انصاف (اور عدل و توازن) کا اور اپنے رخ سیدھے کرلیا کرو ہر نماز کے وقت اور اسی کو پکارا کرو اسی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے جیسے اس نے تمہیں پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ بھی پیدا ہوجاؤگے
ایک گروہ کو اس نے ہدایت دے دی ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس کے اوپر گمراہی مسلط ہوچکی ہے (اور یہ اس لیے کہ) انہوں نے شیطانوں کو اپنا ساتھی بنا لیا اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں
اے آدم ؑ کی اولاد اپنی زینت استوار کیا کرو ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیو البتہ اسراف نہ کرو یقیناً وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جو اللہ نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لیے ؟ اور (کس نے حرام کی ہیں) پاکیزہ چیزیں کھانے کی ؟ آپ کہہ دیجیے یہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان کے لیے ہیں اور قیامت کے دن تو یہ خالصتاً ان ہی کے لیے ہوں گی اسی طرح ہم اپنی آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو حرام قرار دیا ہے بےحیائی کی باتوں کو خواہ وہ اعلانیہ ہوں اور خواہ چھپی ہوئی ہوں اور (حرام کیا ہے اس نے) گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ (بھی حرام ٹھہرایا ہے) کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ (کسی ایسی چیز کو) جس کے لیے اس نے کوئی سند نہیں اتاری ہے اور یہ بھی کہ تم اللہ کی طرف منسوب کرو وہ چیز جس کا تم علم نہیں رکھتے۔
اور ہر قوم کے لیے ایک وقت معین ہے پھر جب ان کا وہ مقررہ وقت آجائے گا تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے کی طرف سرک سکیں گے
اے بنی آدم ! جب بھی تمہارے پاس آئیں رسول تم ہی میں سے جو تمہیں میری آیات سنائیں تو جو کوئی بھی (ان کی دعوت کے جواب میں) تقویٰ کی روش اختیار کرے گا اور اصلاح کرلے گا تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم سے دو چار ہوں گے۔
اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کی بنا پر انہیں رد کردیں گے وہی جہنمی ہوں گے اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے
پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے یا اس کی آیات کو جھٹلائے (لیکن دنیا میں) ان کو ملتا رہے گا ان کا حصہ اس میں سے جو (ان کے لیے) لکھا گیا ہے یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) آجائیں گے ان (کی روحوں) کو قبض کرنے کے لیے تو وہ کہیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پکارا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟ وہ کہیں گے کہ وہ سب تو ہم سے گم ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف یہ گواہی دیں گے کہ واقعتا وہ کافر تھے
کہا جائے گا اچھا شامل ہوجاؤ جنوں اور انسانوں کی ان امتوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں آگ میں (داخل ہونے کے لیے) جب بھی کوئی امت (جہنم میں) داخل ہوگی تو وہ اپنے جیسی دوسری امت پر لعنت کرے گی) یہاں تک کہ جب اس میں گر چکیں گے سب کے سب تو ان کے پچھلے کہیں گے اپنے اگلوں کے بارے میں کہ اے ہمارے ربّ ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو تو دو گنا عذاب دے آگ میں سے اللہ فرمائے گا (تم) سب کے لیے ہی دو گنا (عذاب) ہے لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوسکی لہٰذا اب چکھو مزہ عذاب کا اپنے کرتوتوں کے بدلے میں۔
یقینا جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کی بنا پر ان کو رد کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے کبھی نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے گزر جائے اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو
ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا۔ اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیں گے۔
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔۔ ہم کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے مگر اس کی وسعت کے مطابق۔۔ وہی ہوں گے جنت والے اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔
اور ہم نکال دیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں ہوگا (ایک دوسرے کی طرف سے) کوئی میل اور ان (کے بالاخانوں) کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔ یقیناً ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے اور (تب) انہیں پکارا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال کی وجہ سے
اور جنتی لوگ پکارکر کہیں گے جہنمیوں سے کہ ہم نے تو وہ وعدہ بالکل سچاپایا ہے جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا تو کیا تم نے بھی سچا پایا ہے وہ وعدہ جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ! تو (اس وقت) پکارے گا ایک پکارنے والا ان کے مابین کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر
وہ لوگ جو روکتے تھے (اور خود بھی رکتے تھے) اللہ کے راستے سے اور اس (راستے) میں کجی نکالتے تھے اور یہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔
اور ان (جنتیوں اور جہنمیوں) کے مابین ایک پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے اور وہ (اصحاب اعراف) جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ آپ پر سلامتی ہو ! وہ اس (جنت میں) ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر انہیں اس کی بہت خواہش ہوگی
اور جب ان کی نگاہیں پھیری جائیں گی اہل جہنم کی طرف تو (اس وقت) وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر دیجیو
اور پکاریں گے اہل اعراف (اہل جہنم میں سے) ان لوگوں کو جنہیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے کہیں گے کہ تمہارے کچھ کام نہ آئی تمہاری جمعیت اور (نہ وہ) جو کچھ تم تکبر کیا کرتے تھے
کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ نہیں نوازے گا انہیں اللہ اپنی کسی رحمت سے ! (ان سے تو کہہ دیا گیا ہے کہ) داخل ہوجاؤ جنت میں نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم کسی غم سے دو چار ہو گے۔
اور جہنم والے آواز دیں گے جنت والوں کو کہ کچھ تو بہا دو ہماری طرف پانی میں سے یا اس رزق میں سے (کچھ دے دو) جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے وہ کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں (جنت کا پانی اور رزق) کافروں پر۔
(ان کے لیے) جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا تھا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کردیا تھا لہٰذا آج کے دن ہم بھی انہیں نظر انداز کردیں گے جیسا کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا تھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے
اور ہم لے آئے ہیں ان کے پاس ایک کتاب جس کی ہم نے پوری تفصیل بیان کردی ہے علم قطعی کی بنیاد پر ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئیں۔
یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اس کی حقیقت کے مشاہدے کے ! جس دن اس کا مصداق ظاہر ہوجائے گا تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کیے رکھا تھا کہ یقیناً ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے تو کیا (اب) ہیں ہمارے لیے کوئی شفاعت کرنے والے کہ ہماری شفاعت کریں یا کوئی صورت کہ ہمیں (دنیا میں) لوٹا دیا جائے تاکہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جو کچھ (پہلے) ہم کرتے رہے تھے !) وہ تو اپنے آپ کو برباد کرچکے اور جو افترا وہ کرتے رہے تھے وہ ان سے گم ہوگیا۔
بیشک تمہارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا عرش پر وہ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر (یا رات کو ڈھانپ دیتا ہے دن سے) جو اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور اس نے سورج چاند اور ستارے پیدا کیے جو اس کے حکم سے اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں آگاہ ہوجاؤ اسی کے لیے ہے خلق اور (اُسی کے لیے ہے) امر بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے
پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ اور اللہ کو پکارا کرو خوف اور امید کے ساتھ یقیناً اللہ کی رحمت اہل احسان بندوں کے بہت ہی قریب ہے
اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں بشارت دیتی ہوئی اس کی رحمت کے آگے آگے یہاں تک کہ وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بڑے بڑے بھاری بادل پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیں اور پھر اس سے ہر طرح کے میوے نکال لاتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکال لائیں گے (زمین سے) تاکہ تم نصیحت اخذ کرو
اور زرخیز زمین تو اپنے رب کے حکم سے اپنا سبزہ نکالتی ہے اور جو (زمین) خراب ہے وہ کچھ نہیں نکالتی مگر کوئی ناقص سی چیز اسی طرح ہم اپنی آیات کو گردش میں لاتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو (ان کی) قدر کرنے والے ہوں
ہم نے بھیجا تھا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا۔
آپ ؑ کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم تو تمہیں ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں
آپ ؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں کسی گمراہی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں تو رسول ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے
میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں اپنے رب کے پیغامات اور میں تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک یاد دہانی تم ہی میں سے ایک فرد کے ذریعے سے آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کر دے اور تم (گناہوں سے) بچ سکو اور تم پر رحم کیا جائے۔
تو انہوں نے اس ؑ کو جھٹلایا تو بچالیا ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھی تھے کشتی میں اور ہم نے غرق کردیا ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا یقیناً وہ اندھے لوگ تھے
اور قوم عاد کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا اس ؑ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی الٰہ اس کے سوا نہیں ہے تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟
آپ ؑ کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے انکار کیا تھا کہا کہ ہم تو تمہیں کسی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔
آپ ؑ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! مجھ پر کوئی حماقت طاری نہیں ہوئی بلکہ میں تو رسول ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کی جانب سے۔
میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا رہا ہوں اور تمہارا دیانت دار خیر خواہ ہوں۔
کیا تمہیں تعجب ہے اس بات پر کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے تاکہ وہ تمہیں خبردار کر دے اور ذرا یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا اور تمہیں جسمانی اعتبار سے بڑی کشادگی عطا فرمائی تو اللہ کے احسانات کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
انہوں نے کہا (اے ہود (ؑ) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف اللہ کی بندگی کریں جو اکیلا ہے اور ہم چھوڑ بیٹھیں ان کو جن کو پوجتے تھے ہمارے آباء و اَجداد ! تو ہم پر لے آؤ (وہ عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم سچے ہو
(ہود ؑ نے) فرمایا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور اس کا غضب واقع ہو ہی چکا ہے کیا تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ان ناموں کے بارے میں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے تھے اللہ نے اس کے لیے کوئی سند نہیں اتاری۔ تو (ٹھیک ہے) تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں
تو ہم نے بچالیا اس ؑ کو اور جو (اہل ایمان) لوگ اس ؑ کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور ہم نے جڑ کاٹ دی اس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا اور نہیں تھے وہ ایمان لانے والے
اور قوم ثمود کی طرف (بھیجا ہم نے) ان کے بھائی صالح ؑ کو اس ؑ نے کہا اے میری قوم عبادت کرو اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک خاص نشانی آگئی ہے یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لیے ایک نشانی تو اسے چھوڑے رکھو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اسے نہ چھونا کسی برے ارادے سے (اگر تم نے ایسا کیا) تو ایک درد ناک عذاب تمہیں آپکڑے گا
اور یاد کرو جب اس نے تمہیں جانشین بنایا قوم عاد (کی تباہی) کے بعد اور تمہیں جگہ دی زمین میں تم اس کے نرم میدانوں میں محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر (بھی اپنے لیے) گھر بنالیتے ہو تو اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو اور مت پھرو زمین میں فساد مچاتے
آپ ؑ کی قوم کے متکبر سرداروں نے ان لوگوں سے کہا جو دبا لیے گئے تھے (اور) جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہ (واقعی) کیا تم لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ (ہاں) ہم تو جو کچھ ان کو دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں
(اس پر) وہ استکبار کرنے والے کہتے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں
تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور کہا کہ اے صالح لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر واقعی تم رسول ہو۔
تو انہیں آپکڑا زلزے نے پھر وہ پڑے رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے
تو (صالح ؑ نے) ان سے پیٹھ موڑ لی اور کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا اور میں نے (امکان بھر) تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم تو خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے
اور لوط ؑ (کو بھی ہم نے بھیجا) جب اس نے کہا اپنی قوم سے کیا تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کر رہے ہو جو تم سے پہلے تمام جہان والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔
تم مردوں کا رخ کرتے ہو شہوت کے ساتھ عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم تو ہو ہی حد سے تجاوز کرنے والی قوم۔
تو نہیں تھا اس کی قوم کا کوئی جواب سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا نکالو ان کو اپنی بستی سے یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں
تو ہم نے نجات دے دی اس ؑ کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے وہ ہوگئی پیچھے رہنے والوں ہی میں
اور ہم نے برسائی ان پر ایک بارش تو دیکھو کیا انجام ہوا مجرموں کا !
اور قوم مدین کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیب ؑ کو) اس ؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس کے سوا۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے تو ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں سے ان کی چیزیں کم نہ کیا کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو۔
اور نہ بیٹھا کرو ہر راستے پر ڈرانے دھمکانے کے لیے اور اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے (ہر اس شخص کو) جو ایمان لاتا ہے اور اس راہ کو کج کرتے ہوئے اور یاد کرو جبکہ تم کم تعداد میں تھے تو اللہ نے تمہاری تعداد زیادہ کردی اور (یہ بھی) دیکھو کہ مفسدوں کا کیسا کچھ انجام ہوتا رہا ہے
اور اگر تم میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ہے اس چیز پر جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا ہے تو تم صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے مابین فیصلہ فرما دے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
) کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے تکبر کی روش اختیار کی کہ اے شعیب ! ہم تجھے اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں انہیں اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے یا تم واپس آجاؤ ہماری ملت میں (حضرت شعیب ؑ نے) فرمایا : کیا اگر ہمیں (یہ سب کچھ) ناپسند ہو تب بھی ؟
ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور ہمارے لیے قطعاً ممکن نہیں ہے کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں سوائے اس کے کہ اللہ جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے۔ اے ہمارے ربّ ! فیصلہ فرما دے ہمارے اور ہماری قوم کے مابین حق کے ساتھ اور یقیناً تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
اور کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا کہ اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی کی تو تم خسارے والے ہوجاؤ گے
تو انہیں (بھی) آپکڑا ایک زلزلے نے اور وہ (بھی) پڑے رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ۔
وہ لوگ جنہوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا تھا ایسے ہوگئے کہ جیسے کبھی اس بستی میں بسے ہی نہیں تھے جن لوگوں نے شعیب ؑ کی تکذیب کی وہی ہوئے خسارے والے۔
تو وہ ان کو چھوڑ کر چل دیا یہ کہتے ہوئے کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تو تمہیں پہنچا دیے تھے اپنے رب کے پیغامات اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی تو اب میں کیسے افسوس کروں اس قوم پر جس نے کفر کیا ہے !
اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اس کے بسنے والوں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں (اور ان میں عاجزی پیدا ہوجائے)۔
پھر ہم نے اس برائی کو بھلائی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ لوگ خوب بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے آباء و اَجداد پر بھی تکلیف اور خوشی آتی رہی ہے پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں تھا
اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر کھول دیتے آسمانوں اور زمین کی برکتیں لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں
تو کیا یہ بستیوں والے اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب جبکہ وہ رات کو سوئے ہوئے ہوں
اور کیا یہ بستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب دن چڑھے جب کہ وہ کھیل رہے ہوں
کیا وہ امن میں (یا بےخوف) ہیں اللہ کی چال سے ؟ اللہ کی چال سے کوئی اپنے آپ کو امن میں محسوس نہیں کرتا مگر وہی لوگ جو خسارہ پانے والے ہیں
تو کیا ان لوگوں کو سبق نہیں ملا جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے پہلے رہنے والوں کے (ہلاک ہونے کے) بعد کہ ہم چاہیں تو ان کو بھی پکڑ لیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ! اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں پھر وہ کچھ سنتے ہی نہیں
) یہ وہ بستیاں ہیں جن کی کچھ خبریں ہم آپ ﷺ کو سنا رہے ہیں اور ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن نشانیوں کے ساتھ تو وہ نہیں تھے ایمان لانے والے اس پر جس کا انہوں نے پہلے انکار کردیا تھا اسی طرح اللہ مہر کردیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر
اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی پاسداری نہیں پائی اور ہم نے تو ان کی اکثریت کو فاسق ہی پایا
پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے ان (نشانیوں) کے ساتھ ظلم کیا تو دیکھ لو کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا !
اور موسیٰ ؑ نے کہا : اے فرعون ! میں رسول ہوں تمام جہانوں کے رب کی طرف سے
میں اس پر قائم ہوں کہ حق کے سوا کوئی بات اللہ سے منسوب نہ کروں میں لے کر آیا ہوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلی نشانی تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔
اس (فرعون) نے کہا : اچھا اگر تم (واقعی) کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔
تو (موسیٰ ؑ نے) اپنا عصا پھینکا تو اسی وقت وہ ایک حقیقی اژدھا بن گیا۔
اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) نکالا تو اچانک وہ تھا دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار)۔
فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ تو واقعتا کوئی بہت ماہر جادو گر ہے۔
یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے تو اب تمہاری کیا رائے ہے ؟
(پھر مشورہ دیتے ہوئے) انہوں نے کہا کہ (فی الحال) موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو مؤخر رکھیں اور مختلف شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔
جو آپ کے پاس لے آئیں تمام ماہر جادو گروں کو۔
) اور وہ جادو گر فرعون کے پاس آپہنچے انہوں نے کہا یقیناً ہمیں اجرتو ملے گا ہی اگر ہم غالب آگئے !
اس نے کہا ہاں اور (انعام کے علاوہ) تم مقربین میں بھی شامل کرلیے جاؤ گے۔
) (جادوگر) کہنے لگے : اے موسیٰ ! اب تم پہلے ڈالو گے یا ہم ہوجائیں پہلے ڈالنے والے ؟
(حضرت موسیٰ ؑ نے) فرمایا : تم ڈالو ! تو جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہوں نے ان (حاضرین) پر دہشت طاری کردی اور ظاہر کردیا بہت بڑا جادو
اور ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ ڈالو (تو سہی ذرا) اپنا عصا تو دفعتہً وہ (اژدھا بن کر) نگلنے لگا ان سب کو جو وہ گھڑلائے تھے
پس حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ باطل ہو کر رہ گیا
تو یہ (جادوگر) اسی وقت مغلوب ہوگئے اور وہ (فرعون اور اس کے سردار) ذلیل ہو کر رہ گئے
اور جادو گر سجدے میں گرا دیے گئے
وہ (فوراً) پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے تمام جہانوں کے رب پر
موسیٰ ؑ ٰ اور ہارون ؑ کے رب پر
فرعون نے کہا (تمہاری یہ جرأت کہ) تم ایمان لے آئے ہو اس پر اس سے قبل کہ میں تمہیں اجازت دوں ! تاکہ نکال دو اس (شہر) میں سے اس کے باسیوں کو تو تمہیں عنقریب پتا چل جائے گا۔
میں کاٹ ڈالوں گا تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے اور پھر میں سولی پر چڑھا دوں گا تم سب کو۔
انہوں نے کہا (ٹھیک ہے) ہمیں تو اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اور تم ہم سے کس بات کا انتقام لے رہے ہو سوائے اس کے کہ ہم ایمان لے آئے اپنے رب کی آیات پر جب وہ ہمارے پاس آگئیں ! اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں وفات دیجیو مسلم ہی کی حیثیت سے۔
اور کہا قوم فرعون کے سرداروں نے (فرعون سے) کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو اسی طرح چھوڑے رکھیں گے کہ وہ زمین کے اندر فساد مچائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں ! اس نے کہا ہم عنقریب قتل کریں گے ان کے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیں گے ان کی بیٹیوں کو اور یقیناً ہم ان پر پوری طرح غالب ہیں
موسیٰ ؑ نے اپنی قوم (اہل ایمان) سے کہا کہ اب تم لوگ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو ؟ یقیناً یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے لیکن عاقبت (آخرت) تو تقویٰ والوں کے لیے ہی ہے
وہ کہنے لگے (اے موسیٰ (ؑ) ہمیں تو ایذا پہنچی آپ ؑ کے آنے سے قبل بھی اور آپ ؑ کے آنے کے بعد بھی (موسیٰ ؑ نے) فرمایا (گھبراؤ نہیں !) ہوسکتا ہے عنقریب اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں خلافت عطا کر دے زمین میں پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو !
اور ہم نے پکڑا آل فرعون کو لگاتار قحط سالی اور فصلوں کی تباہی سے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
توجب بھی حالات بہتر ہوجاتے تو وہ لوگ کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے وہ نحوست سمجھتے موسیٰ ؑ اور آپ ؑ کے ساتھیوں کی) آگاہ ہوجاؤ کہ ان کی شومئ قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں
اور وہ کہتے کہ (اے موسیٰ) تم ہمارے اوپر خواہ کوئی بھی نشانی لے آؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں
پھر ہم نے بھیجے ان کے اوپر طوفان اور ٹڈی دَل اور چچڑیاں اور مینڈک اور خون (ہم نے بھیجیں یہ) نشانیاں وقفے وقفے سے (اس کے باوجود) وہ تکبر پر اڑے رہے اور وہ تھے ہی مجرم لوگ
اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تھا تو وہ کہتے کہ اے موسیٰ ؑ اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔
لیکن جب ہم ان سے اس مصیبت کو دور کردیتے تھے ایک خاص مدت کے لیے کہ جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعتہً عہد توڑ دیتے تھے۔
) پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم نے انہیں سمندر میں غرق کردیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان (آیات) سے تغافل برتتے رہے۔
اور جن لوگوں کو دبا لیا گیا تھا (اب) ہم نے انہیں وارث بنا دیا اس زمین کے مشرق و مغرب کا جس کو ہم نے بابرکت بنایا تھا اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے اور ہم نے تباہ و برباد کر ڈالاوہ سب کچھ جو فرعون اور اس کی قوم (اونچے محلات) بناتے تھے اور (باغات میں انگور کی بیلوں وغیرہ کے لیے چھتریاں) چڑھاتے تھے
اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے تو ان کا گزر ہوا ایک ایسی قوم پر جو اعتکاف کر رہی تھی اپنے بتوں کا انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ؑ ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنا دو جیسے ان کے معبود ہیں آپ ؑ نے فرمایا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو !
یہ لوگ جس چیز میں پڑے ہیں وہ سب کچھ بر باد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب باطل ہے۔
(حضرت موسیٰ ؑ نے) فرمایا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں فضیلت دی ہے تمام جہان والوں پر !
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے جو تمہیں مبتلا کیے ہوئے تھے بد ترین عذاب میں وہ قتل کر ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری بیٹیوں کو اور یقیناً اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی
اور ہم نے بلایا موسیٰ ؑ ٰ کو تیس راتوں کے لیے اور مکمل کردیا ہم نے اس مدت کو دس (مزید راتوں) سے تو مدت پوری ہوگئی اس کے رب کی چالیس راتوں کی اور (جاتے ہوئے) کہا موسیٰ ؑ ٰ نے اپنے بھائی ہارون ؑ سے کہ میری قوم کے اندر میری نیابت کے فرائض ادا کرنا اصلاح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔
اور جب موسیٰ ؑ ٰ پہنچے ہمارے وقت مقررہ پر اور ان سے کلام کیا ان کے رب نے انہوں نے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن ذرا اس پہاڑ کو دیکھو اگر وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے تو جب اس ؑ کے رب نے اپنی تجلی ڈالی پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور موسیٰ ؑ ٰ گرپڑے بےہوش ہو کر پھر جب آپ ؑ کو افاقہ ہوا تو کہا کہ (اے اللہ !) تو پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ہوں پہلا ایمان لانے والا !
(اللہ نے) فرمایا : اے موسیٰ ؑ میں نے تمہیں منتخب کیا ہے لوگوں پر (ترجیح دے کر) اپنی پیغمبری اور اپنی ہم کلامی کے لیے تو لے لو جو میں تمہیں دے رہا ہوں اور ہوجاؤ شکر کرنے والوں میں
اور ہم نے لکھ دی اس ؑ کے لیے تختیوں پر ہر طرح کی نصیحت اور ہر طرح (کے احکام) کی تفصیل تو (اے موسیٰ ؑ اس کو تھام لو مضبوطی کے ساتھ اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ اس کو پکڑیں اس کی بہترین صورت پر عنقریب میں تمہیں گھر دکھاؤں گا (جس پر اس وقت قبضہ ہے) فاسقوں کا
) میں پھیر دوں گا اپنی آیات سے ان لوگوں (کے رُخ) کو جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ساری نشانیاں تب بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ہدایت کا راستہ تب بھی اس راستے کو اختیار نہیں کریں گے اور اگر وہ دیکھیں برائی کا راستہ تو اسے وہ (فوراً) اختیار کرلیں گے یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تغافل برتتے رہے
اور جو لوگ بھی جھٹلائیں گے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان کو نہیں دیا جائے گا بدلے میں مگر وہی کچھ جو وہ کرتے رہے تھے
اور بنا لیا موسیٰ ؑ کی قوم نے آپ ؑ کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتاسکتا ہے ! اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اور وہ تھے بہت ظالم !
اور جب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے (ان کو پچھتاوا ہوا) اور انہیں احساس ہوا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں بخش نہ دیا تو ہم ہوجائیں گے بہت خسارہ پانے والوں میں سے
اور جب موسیٰ ؑ لوٹے اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک ہو کر افسوس میں آپ ؑ نے فرمایا بہت بری ہے میری نیابت جو تم نے کی ہے میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے معاملے میں جلدی کی ؟ اور آپ ؑ نے وہ تختیاں (ایک طرف) ڈال دیں اور (غصے میں) اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (ہارون ؑ نے) کہا کہ اے میرے ماں جائے حقیقت میں قوم نے مجھے دبا لیا تھا اور وہ میرے قتل پر آمادہ ہوگئے تھے تو (دیکھیں اب) دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے
(تب حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کرتے ہوئے) کہا کہ اے میرے پروردگار ! بخش دے مجھے بھی اور میرے بھائی کو بھی اور ہمیں داخل فرما اپنی رحمت میں اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
یقیناً جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا عنقریب ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں) اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں بہتان باندھنے والوں کو
البتہ جن لوگوں نے (کچھ دیر کے لیے) برے کام کیے پھر توبہ کرلی اس کے بعد اور ایمان لے آئے تو یقیناً اس کے بعد آپ ؑ کا رب بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
اور جب موسیٰ ؑ کا غصہ کچھ ٹھنڈا پڑا تو انہوں نے وہ تختیاں اٹھا لیں اور اس کی تحریر میں تھی رحمت اور ہدایت ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
اور انتخاب کیا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے ستر افراد کا ہمارے وقت مقررہ کے لیے پھر جب انہیں آپکڑازلزلے نے (موسیٰ ؑ نے) نے عرض کیا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ہلاک کردیتا پہلے ہی ان سب کو بھی اور مجھے بھی تو کیا تو ہمیں ہلاک کر دے گا ہم میں سے کچھ بیوقوف لوگوں کی حرکت کی وجہ سے ؟ تو ہمارا پشت پناہ ہے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور یقیناً تمام بخشنے والوں میں تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
اور تو ہمارے لیے اس دنیا (کی زندگی) میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری جناب میں رجوع کرتے ہیں (اللہ نے) فرمایا کہ میں عذاب میں مبتلا کروں گا جس کو چاہوں گا اور میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے تو اسے میں لکھ دوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں گے زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو لوگ ہماری آیات پر پختہ ایمان رکھیں گے
جو اتباع کریں گے رسول نبی امی ﷺ کا جسے پائیں گے وہ لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے تمام برائیوں سے روکیں گے اور ان کے لیے تمام پاک چیزیں حلال کردیں گے اور حرام کردیں گے ان پر ناپاک چیزوں کو اور ان سے اتاردیں گے ان کے بوجھ اور طوق جو ان (کی گردنوں) پر پڑے ہوں گے تو جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ ﷺ کی تعظیم کریں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور پیروی کریں گے اس نور کی جو آپ ﷺ کے ساتھ نازل کیا جائے گا وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے
(اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے اے لوگو ! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف (اس اللہ کا) جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ
اور موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی تھی جو حق کی ہدایت دیتے تھے اور حق ہی کے ساتھ عدل و انصاف بھی کرتے تھے
) اور ہم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا بارہ قبیلوں کی جماعتوں میں اور ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ ؑ سے آپ ؑ کی قوم نے کہ اپنی لاٹھی سے چٹان پر ضرب لگائیے پس اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تو ہر قبیلے نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو اور ہم نے ان کے اوپر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ (اور ان سے کہا کہ) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے
اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ آباد ہوجاؤ اس بستی میں اور اس میں سے کھاؤ (پیو) جہاں سے بھی چاہو اور استغفار کرتے رہو اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم محسنین کو اور بھی زیادہ عطا کریں گے۔
تو بدل دی ان لوگوں نے جو ان میں سے ظالم تھے اس بات کے بجائے جو ان سے کہی گئی تھی ایک (دوسری) بات جن لوگوں نے وہ لفظ بدلنے کی حرکت کی تھی ان میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اور وہ سب کے سب ہلاک ہوگئے
اور ان سے ذراپوچھئے اس بستی کے بارے میں جو ساحل سمندر پر تھی جب کہ وہ سبت کے قانون میں حد سے تجاوز کرنے لگے جب کہ آتی تھیں ان کی مچھلیاں ان کے پاس ہفتے کے دن چھلانگیں لگاتی ہوئی اور جس دن سبت نہیں ہوتا تھا وہ ان کے قریب نہیں آتی تھیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے
اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ کیوں نصیحت کر رہے ہو ان لوگوں کو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا پھر انہیں عذاب دینے والا ہے بہت سخت عذاب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب کے ہاں معذرت پیش کرنے کے لیے اور شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کر ہی لیں
پھر جب انہوں نے نظرانداز کردیا اس نصیحت کو جو انہیں کی جار ہی تھی تو ہم نے بچالیا ان کو جو برائی سے روکتے تھے اور پکڑلیا ہم نے ان کو جو ظلم کے مرتکب ہوئے تھے بہت ہی برے عذاب میں ان کی نافرمانی کے سبب
توجب وہ بہت بڑھ گئے اس میں جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ جاؤ ذلیل بندر بن جاؤ !
اور (یاد کرو) جب آپ ﷺ کے رب نے یہ اعلان کردیا کہ وہ لازماً مسلط کرتا رہے گا ان پر قیامت کے دن تک ایسے لوگوں کو جو انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کرتے رہیں گے یقیناً آپ کا رب سزا دینے میں بہت جلدی کرتا ہے اور یقیناً وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی
اور ہم نے انہیں زمین کے اندر منتشر کردیا فرقوں کی صورت میں ان میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں جو دوسری طرح کے ہیں ہم انہیں بھلائی اور برائی سے آزماتے رہے ہیں کہ شاید یہ لوگ لوٹ آئیں
لیکن ان کے بعد ایسے (نا خلف) جانشین کتاب (تورات) کے وارث ہوگئے جو اس حقیر دنیا کے سازو سامان ہی کو حاصل کرتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ ہمیں تو بخش ہی دیا جائے گا اگر ایسا ہی اور سامان بھی ان کو دے دیا جائے تو (وہ بھی) لے لیں گے کیا ان سے عہد نہیں لیا گیا تھا کتاب (تورات) کی نسبت کہ نہیں منسوب کریں گے اللہ سے کوئی بات مگر حق اور انہوں نے پڑھ بھی لیا جو کچھ اس میں تھا اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
اور جن لوگوں نے کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا اور نماز قائم کی تو یقینا ایسے مصلحین کا اجرہم ضائع نہیں کریں گے۔
اور یاد کرو جبکہ ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر ایسے اٹھا دیا تھا جیسے سائبان ہو اور انہیں لگتا تھا کہ اب یہ ان پر گرنے ہی والا ہے (ہم نے اس وقت ان سے کہا تھا کہ) تھام لو اس کو مضبوطی سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تاکہ تم (غلط روی سے) بچتے رہو
اور یاد کرو جب نکالا آپ ﷺ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! ہم اس پر گواہ ہیں مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے
یا تم یہ کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں سے تھے تو (پروردگار !) کیا تو ہمیں ہلاک کرے گا ان باطل پسند لوگوں کے فعل کے بدلے میں ؟
اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو تفصیل سے بیان کردیتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔
اور سنائیے انھیں خبر اس شخص کی جس کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ ہوگیا گمراہوں میں سے
اور اگر ہم چاہتے تو ان (آیات) کے ذریعے سے اسے اور بلند کرتے مگر وہ تو زمین کی طرف ہی دھنستا چلا گیا اور اس نے پیروی کی اپنی خواہشات کی تو اس کی مثال کتے کی سی ہے اگر تم اس کے اوپر بوجھ رکھو تب بھی ہانپے گا اور اگر چھوڑ بھی دو تب بھی ہانپتا رہے گا یہی مثال ہے اس قوم کی (بھی) جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا سو (اے نبی ﷺ !) آپ یہ واقعات سنا دیجیے شاید کہ یہ تفکر کریں
کیا ہی بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے
جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جنہیں وہ گمراہ کر دے تو وہی لوگ تباہ ہونے والے ہیں۔
اور ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں بہت سے جن اور انسان ان کے دل تو ہیں لیکن ان سے غور نہیں کرتے ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں
اور تمام اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو پکارو اسے ان (اچھے ناموں) سے اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو اس کے ناموں میں کجی نکالتے ہیں عنقریب وہ بدلہ پائیں گے اپنے اعمال کا
اور جو انسان ہم نے پیدا کیے ہیں ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جو حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ عدل کرتے ہیں
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے تو ہم رفتہ رفتہ انہیں ایسے پکڑیں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا
اور میں ان کو ڈھیل دوں گا یقینامیری چال بہت مضبوط ہے۔
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی (محمد ﷺ کو کوئی جنون نہیں ہے وہ نہیں ہیں مگر واضح طور پر خبردار کردینے والے
اور کیا ان لوگوں نے غور و فکر نہیں کیا آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور اللہ نے جو چیزیں بنائی ہیں (ان میں) اور یہ (نہیں سوچا) کہ ہوسکتا ہے ان کا مقررہ وقت قریب پہنچ گیا ہو اور اب اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟
جس کو اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور وہ چھوڑ دے گا ان کو ان کی سر کشی میں اندھے ہو کر آگے بڑھتے ہوئے
(اے نبی ﷺ یہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ آپ کہیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے وہی ظاہر کرے گا اسے اس کے وقت پر وہ آسمانوں اور زمین کے اندر بڑا بھاری بوجھ ہے وہ نہیں آئے گی تم پر مگر اچانک (اے نبی ﷺ آپ سے تو یہ اس طرح پوچھتے ہیں گویا آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔
کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے اپنی جان کے بارے میں بھی کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا سوائے اس کے جو اللہ چاہے نہیں ہوں میں مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہوں
وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے تو جب وہ (شوہر) ڈھانپ لیتا ہے اس (اپنی بیوی) کو تو اسے حمل ہوجاتا ہے ہلکا سا حمل تو وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہتی ہے پھر جب بوجھل ہوجاتی ہے تو وہ دونوں اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح سالم بچہ عطا کر دے گا تو ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے
پھر جب اللہ نے انہیں عطا کردیا صحیح سالم بچہ تو ٹھہرا لیے انہوں نے اس کے شریک اس میں جو اللہ نے ان کو عطا کیا تھا اللہ بہت بلند وبالا ہے ان کے اس شرک سے
کیا وہ ان کو شریک کر رہے ہیں (اللہ کے ساتھ) جو کوئی شے تخلیق کرتے ہی نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں
اور نہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ اپنی مدد پر قادر ہیں
اور اگر تم انہیں پکارو راہنمائی کے لیے (کہ تمہیں راستہ دکھا دیں) تو وہ تمہاری طرف توجہ ہی نہیں کرسکیں گے برابر ہے تمہارے لیے کہ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو
یقیناً جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے ماسوا وہ بھی تمہاری طرح کے بندے ہیں ان کو پکار دیکھو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے یہ چلتے ہوں ؟ یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے یہ پکڑتے ہوں ؟ یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ دیکھتے ہوں ؟ یا ان کے کان ہیں جن سے یہ سنتے ہوں ؟ (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ پکار لو اپنے سب شریکوں کو پھر میرے خلاف چالیں چلو (جو چل سکتے ہو) اور مجھے کوئی مہلت نہ دو
یقیناً میرا مدد گار تو وہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور صالح بندوں کا وہی پشت پناہ ہے۔
اور جنہیں تم پکار رہے ہو اس (اللہ) کو چھوڑ کر وہ تمہاری مدد کی استطاعت ہی نہیں رکھتے اور نہ وہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں
اور اگر تم انہیں راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ سن نہ سکیں گے اور تمہیں ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں جب کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے
(اے نبی ﷺ !) آپ درگزر کو تھام لیجیے اور بھلی بات کا حکم دیتے رہیے اور جاہلوں سے اعراض کریں
اور اگر کبھی آپ کو کوئی چوک لگ ہی جائے شیطان کی طرف سے تو اللہ کی پناہ طلب کریں یقیناً وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
جن لوگوں کے اندر تقویٰ ہے ان کو جب کوئی برا خیال چھو جاتا ہے شیطان کے اثر سے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور دفعۃً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
اور جو ان (شیطانوں) کے بھائی ہیں انہیں وہ گھسیٹ کرلے جاتے ہیں دور تک گمراہی میں پھر وہ کچھ کمی نہیں کرتے
(اے نبی ﷺ جب آپ ان کے پاس کوئی معجزہ نہیں لاتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ کیوں نہ اسے چن کرلے آئے ؟ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف پیروی کررہا ہوں اس کی جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے میرے رب کی طرف سے یہ تمہارے رب کی طرف سے بصیرت افروز باتیں ہیں اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے حق میں جو ایمان لے آئیں۔
اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور اپنے رب کو یاد کرتے رہا کرو اپنے جی ہی جی میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور بلند آواز سے نہیں (پست آواز سے) اور غافلوں میں سے نہ ہوجائیے
بیشک وہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے استکبار نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے سجدے کرتے رہتے ہیں۔