جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔
الواقعة
Al-Waqi'ah
The Inevitable·Meccan·96 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔
وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔
جب زمین ہلا ڈالی جائے گی جیسے کہ زلزلہ آتا ہے۔
اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے۔
پس وہ ہوجائیں گے اڑتا ہوا غبار۔
اور تم تین گروہوں میں منقسم ہو جائو گے۔
تو جو داہنے والے ہوں گے کیا خوب ہوں گے وہ داہنے والے !
اور جو بائیں والے ہوں گے تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا
اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔
وہی تو بہت مقرب ہوں گے۔
یہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے۔
یہ بڑی تعداد میں ہوں گے پہلوں میں سے۔
اور تھوڑے ہوں گے پچھلوں میں سے۔
جڑائو تختوں پر
ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔
ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔
آب خورے صراحیاں اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے۔
اس سے) نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔
اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔
اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں گے۔
اور حوریں ہوں گی بڑی بڑی آنکھوں والی۔
جیسے موتی ہوں چھپا کر رکھے گئے۔
یہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے تھے۔
وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ ہی کوئی الزام۔
مگر (ان کے لیے ہر طرف سے) سلام سلام ہی کی آوازیں ہوں گی۔
۔ } اور اصحاب الیمین ! کیا کہنے ہیں اصحاب الیمین کے !
وہ ہوں گے بیری کے درختوں میں جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔
اور تہ بر تہ کیلے۔
اور پھیلے ہوئے سائے
اور بہتا ہوا پانی۔
اور کثرت کے ساتھ میوے۔
نہ ٹوٹے ہوئے اور نہ ہی پہنچ سے باہر۔
اور اونچے اونچے بچھونے۔
ان (کی بیویوں) کو اٹھایا ہے ہم نے بڑی اچھی اٹھان پر۔
پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔
پیار دینے دلانے والیاں ہم عمر
یہ سب کچھ ہوگا) اصحاب الیمین کے لیے۔
جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔
اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔
اور بائیں والے ! کیا (ہی برا) حال ہوگا بائیں والوں کا
وہ ہوں گے تیز لو اور کھولتے ہوئے پانی میں
اور کالے دھوئیں کے سائے میں۔
نہ وہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی سکون بخش۔
یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) بڑے خوشحال تھے۔
اور یہ اصرار کرتے تھے بہت بڑے گناہ پر۔
اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ کیا ہم جب مرجائیں گے اور ہوجائیں مٹی اور ہڈیاں تو کیا پھر سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ؟
اور کیا ہمارے آباء و اَجداد بھی جو پہلے گزر چکے ہیں ؟
اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ یقینا پہلے بھی اور پچھلے بھی۔
لازماً جمع کیے جائیں گے ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت پر۔
پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو
ضرور کھائو گے زقوم کے درخت سے۔
پس اسی سے تم اپنے پیٹ بھرو گے۔
پھر پیو گے اس پر کھولتا ہوا پانی۔
اور ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا اونٹ پیتا ہے۔
یہ ہوگی ان کی ابتدائی ضیافت جزا کے دن۔
ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے تو تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟
کیا تم نے کبھی غور کیا اس پر جو (منی) تم ٹپکادیتے ہو ؟
کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟
ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں
کہ تمہاری مثل بدل کر لائیں اور تمہیں ایسی تخلیق میں اٹھائیں جسے تم نہیں جانتے !
اور تم (اپنی) پہلی زندگی کے بارے میں تو جانتے ہی ہو
کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو ؟
کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں پھر تم بیٹھے رہو باتیں بناتے ہوئے
کہ لو جی !) ہم پر تو بڑا تاوان پڑگیا۔
بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم ہو کر رہ گئے۔
کبھی تم نے غور کیا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو ؟
کیا بادلوں سے تم نے اسے برسایا ہے یا ہم ہیں برسانے والے ؟
اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کردیں تو تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟
کبھی تم نے سوچا کہ وہ آگ جو تم جلاتے ہو ؟
کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟
ہم نے بنا دیا اس کو ایک نشانی یاد دلانے کو اور ایک بہت فائدہ مند چیز صحرا کے مسافروں کے لیے۔
پس تم تسبیح بیان کرو اپنے ربّ کے نام کی جو بہت عظمت والا ہے۔
پس نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔
اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو
یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔
ایک چھپی ہوئی کتاب میں۔
اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں۔
اس کا اتارا جانا ہے ربّ العالمین کی جانب سے
۔ } تو کیا تم لوگ اس کتاب کے بارے میں مداہنت کر رہے ہو ؟
اور تم نے اپنا نصیب یہ ٹھہرا لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو۔
تو کیوں نہیں جب جان حلق میں آ (کر پھنس) جاتی ہے۔
اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔
اور ہم تمہارے مقابلے میں اس سے قریب تر ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں پاتے۔
تو اگر تم کسی کے اختیار میں نہیں ہو
تو اس (جان) کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو ؟
۔ } پھر اگر وہ مقربین میں سے تھا۔
تو اس کے لیے راحت اور سرور اور نعمتوں والی جنت ہے۔
اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے تھا۔
تو سلامتی پہنچے آپ کو اصحاب الیمین کی طرف سے۔
اور اگر وہ تھا جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے۔
تو اس کے لیے مہمانی ہے کھولتے پانی سے۔
اور جہنم میں جلنا۔
یقینا یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔
پس آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو کہ بہت عظمت والا ہے۔