اے لوگو اپنے اس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے پھیلا دیے (زمین میں) کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں اور تقویٰ اختیار کرو اس اللہ کا جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو اور رحمی رشتوں کا لحاظ رکھو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے
النساء
An-Nisa
The Women·Medinan·176 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اور یتیموں کے مال ان کے حوالے کر دو اور (اپنے) برے مال کو (ان کے) اچھے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مالوں میں شامل کر کے ہڑپ نہ کرو یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے تو (انہیں اپنے نکاح میں نہ لاؤ بلکہ) جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو دو دو تین تین چار چار تک لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا وہ عورتیں جو تمہاری ملک یمین ہوں یہ اس سے قریب تر ہے کہ تم ایک ہی طرف کو نہ جھک پڑو
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی کے ساتھ دیا کرو پھر اگر وہ خود اپنی رضامندی سے اس میں سے کوئی چیز تمہیں چھوڑ دیں تو تم اس کو کھاؤ مزے سے خوشگواری سے
اور مت پکڑا دو ناسمجھوں کو اپنے وہ مال جن کو اللہ نے تمہارے گزران کا ذریعہ بنایا ہے ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے بات کیا کرو اچھے انداز میں
اور یتیموں کی جانچ پرکھ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو اور تم اسے ہڑپ نہ کر جاؤ اسراف اور جلد بازی کر کے (اس ڈر سے) کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اور جو کوئی غنی ہو اس کو چاہیے کہ وہ پرہیزکرے اور جو کوئی محتاج ہو تو کھائے دستور کے مطابق پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرو تو اس پر گواہ ٹھہرا لو اور اللہ کافی ہے حساب لینے کے لیے
مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ چھوڑا ہو والدین نے اور رشتہ داروں نے اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ ہے والدین اور رشتہ داروں کا چاہے وہ وراثت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو یہ حصہ ہے (اللہ کی طرف سے) فرض کیا گیا
اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور محتاج تو انہیں بھی کچھ دے دلا دو اس میں سے اور ان سے معقول انداز میں بات کرو
اور ڈرتے رہنا چاہیے ان لوگوں کو کہ اگر انہوں نے بھی چھوڑے ہوتے اپنے پیچھے ناتواں بچے تو ان کے بارے میں انہیں کیسے کیسے اندیشے ہوتے تو انہیں چاہیے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور سیدھی سیدھی (حق پر مبنی) بات کریں
یقیناً وہ لوگ جو یتیموں کا مال ہڑپ کرتے ہیں ناحق) وہ تو اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہی ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے
اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ لڑکے کے لیے حصہ ہے دو لڑکیوں کے برابر پھر اگر لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے جو اس نے چھوڑا اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے پھر اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائے یا بعد ادائے قرض کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہارے لیے زیادہ نافع ہے یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فریضہ ہے یقیناً اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے
اور تمہارا حصہ تمہاری بیویوں کے ترکے میں سے آدھا ہے اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس میں سے جو انہوں نے چھوڑا بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائیں یا بعد ادائے قرض کے اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے میں سے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو تم نے کی ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر کوئی شخص جس کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے کلالہ ہو یا عورت ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کو ضرر پہنچائے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا کمال حلم والا ہے
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ داخل کرے گا اسے ان باغات میں جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہی ہے بہت بڑی کامیابی
اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اس کی حدود سے وہ داخل کرے گا اس کو آگ میں جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے اہانت آمیز عذاب ہوگا
اور تمہاری عورتوں میں سے جو کسی بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند کردو یہاں تک کہ موت ان کو لے جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے
اور جو دونوں تم میں سے اس (بدکاری) کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان کو چھوڑدو یقیناً اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے
اللہ کے ذمے ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو کوئی بری حرکت کر بیٹھتے ہیں جہالت اور نادانی میں پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں تو یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور حکیم و دانا ہے
اور ایسے لوگوں کا کوئی حق نہیں ہے توبہ کا جو برے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کفر کی حالت میں ہی مرجاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
اے اہل ایمان ! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی وراثت میں لے لو اور نہ یہ جائز ہے کہ تم انہیں روکے رکھو تاکہ تم ان سے واپس لے لو اس کا کچھ حصہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے ہاں اگر وہ صریح بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں (تو تمہیں ان کو تنگ کرنے کا حق ہے) اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے پر معاشرت اختیار کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو بعید نہیں کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور اس میں اللہ نے تمہارے لیے بہت کچھ بہتری رکھ دی ہو
اور اگر تمہارا ارادہ ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو تم نے ڈھیروں مال دیاہو تو اس میں سے کوئی بھی شے واپس نہ لو کیا تم اسے واپس لو گے بہتان لگا کر اور صریح گناہ کے مرتکب ہو کر ؟
اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو ؟ اور وہ تم سے مضبوط قول وقرار لے چکی ہیں
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے تم نکاح مت کرو یقیناً یہ بڑی بےحیائی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے
حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری ربیبائیں جو تمہاری گودوں میں پلی بڑھی ہوں تمہاری ان بیویوں سے جن کے ساتھ تم نے مقاربت کی ہو اور اگر تم نے ان بیویوں سے مقاربت نہ کی ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ (بھی تم پر حرام کردیا گیا ہے) کہ تم بیک وقت دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو سوائے اس کے کہ جو گزر چکا یقیناً اللہ غفور اور رحیم ہے
اور وہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) جو کسی اور کے نکاح میں ہوں سوائے اس کے کہ جو تمہاری ملک یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ان کے سوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پس جو بھی تم نے ان سے تمتع کیا ہو تو اس کے بدلے ان کے مہر ادا کرو جو مقرر ہوئے تھے البتہ اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی کمی بیشی کرلو یقیناً اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے
اور جو کوئی تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں سے شادی کرسکے تو وہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مؤمنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو سو ان سے نکاح کرلو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور انہیں ان کے مہر ادا کرو معروف طریقے پر ان کو حصار نکاح میں لا کر نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے والیاں ہوں اور نہ ہی چوری چھپے آشنائیاں کریں پس جب وہ قید نکاح میں آجائیں تو پھر اگر وہ بےحیائی کا کام کریں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے یہ اجازت تم میں سے ان کے لیے ہے جن کو گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اللہ غفور اور رحیم ہے
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے اپنے احکام واضح کر دے اور تمہیں ہدایت بخشے ان راستوں کی جو تم سے پہلے کے لوگوں کے تھے اور تم پر نظر عنایت فرمائے اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے
اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے اور وہ لوگ جو شہوات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ حق سے بھٹک کر دور نکل جاؤ
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ کو ہلکاکرے۔ اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
اے اہل ایمان اپنے مال آپس میں باطل طریقے پر ہڑپ نہ کرو سوائے اس کے کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رضامندی سے اور نہ اپنے آپ کو قتل کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے
اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا تعدی اور ظلم کے ساتھ تو ہم جلد اس کو جھونک دیں گے آگ میں اور یہ چیز اللہ پر بہت آسان ہے
اگر تم اجتناب کرتے رہو گے ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو تم سے دور کردیں گے اور تمہیں داخل کریں گے بہت باعزت جگہ پر
اور تمنا نہ کیا کرو اس شے کی جس کے ذریعے سے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دے دی ہے مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں گے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں گی اور اللہ سے اس کا فضل طلب کرو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم رکھتا ہے
اور ہر ایک کے لیے ہم نے وارث مقرر کردیے ہیں جو بھی والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اور جن کے ساتھ تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کو ان کا حصہ دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز پر گواہ ہے
مرد عورتوں پر حاکم ہیں بسبب اس فضیلت کے جو اللہ نے بعض کو بعض پر دی ہے اور بسبب اس کے کہ جو وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال پس جو نیک بیویاں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں غیب میں حفاظت کرنے والیاں اللہ کی حفاظت سے اور وہ خواتین جن کے بارے میں تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو پس ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف (خواہ مخواہ زیادتی کی) راہ مت تلاش کرو
اور اگر تم کو میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے خاندان سے مقرر کرو اور ایک حَکَم عورت کے خاندان سے اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور باخب رہے
اور اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت داروں یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ اور قرابت دار ہمسائے اور اجنبی ہمسائے کے ساتھ اور ہم نشین ساتھی اور مسافر کے ساتھ اور وہ لونڈی غلام جو تمہارے ملک یمین ہیں (ان کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو) اللہ بالکل پسند نہیں کرتا ان لوگوں کو جو شیخی خورے اور اکڑنے والے ہوں
جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں اور وہ چھپاتے ہیں اس کو جو اللہ نے انہیں اپنے فضل میں سے دیا ہے اور ایسے ناشکروں کے لیے ہم نے بڑا اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے
اور وہ لوگ (بھی اللہ کو ناپسند ہیں) جو اپنے مال خرچ کرتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ حقیقت میں ایمان نہیں رکھتے نہ اللہ پر نہ یوم آخر پر (ایسے لوگ گویا شیطان کے ساتھی ہیں) اور جس کا ساتھی شیطان ہوجائے تو وہ بہت ہی براساتھی ہے
ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور یوم آخر پر (صدقِ دل سے) ایمان لے آتے اور خرچ کرتے (کھلے دل کے ساتھ) اس میں سے جو اللہ نے انہیں دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح واقف ہے
یقیناً اللہ کسی پر ذرّے کے ہم وزن بھی ظلم نہیں کرے گا اگر ایک نیکی ہوگی تو اس کو کئی گنا بڑھائے گا اور خاص اپنے خزانۂ فضل سے مزید بہت بڑا اجر دے گا
تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور (اے نبی) آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بناکر
اس دن تمنا کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اور رسول کی نافرمانی کی تھی کہ کاش ان کے سمیت زمین برابرکردی جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپا نہیں سکیں گے
اے اہل ایمان نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جو کچھ تم کہہ رہے ہو) اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے قریب نہ جاؤ) جب تک غسل نہ کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضاء حاجت کے بعد آیا ہو یا تم نے عورتوں کے ساتھ مباشرت کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو یقیناً اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بخشنے والا ہے
کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہوجاؤ
اللہ تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور اللہ کافی ہے تمہارے ولی اور پشت پناہ ہونے کی حیثیت سے اور وہ کافی ہے تمہارے مددگار ہونے کے اعتبار سے
ان یہودیوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو کلام کو اس کے اصل مقام و محل سے پھیرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نہیں مانا اور (کہتے ہیں) سنیے نہ سنا جائے اور (کہتے ہیں) رَاعِنَا اپنی زبانوں کو موڑ کر اور دین میں طعن کرنے کے لیے اور اگر وہ یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی اور آپ ہماری بات سن لیجیے اور ذرا ہمیں مہلت دیجیے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا اور بہت درست اور سیدھی بات ہوتی لیکن اللہ نے تو ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے تو اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں مگر شاذ ہی کوئی
اے وہ لوگو جن کو کتاب دی گئی تھی ! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا ہے جو اس کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے جو تمہارے پاس ہے اس سے قبل کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں پھر ان کو ان کی پیٹھوں کی طرف موڑ دیں یا ہم ان پر بھی اسی طرح لعنت کردیں جس طرح ہم نے اصحاب سبت پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم تو نافذ ہو کر رہنا ہے
یقیناً اللہ اس بات کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اس سے کم تر جو کچھ ہے وہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس نے تو بہت بڑے گناہ کا افترا کیا
کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ رہے ہیں ؟ اور صریح گناہ ہونے کے لیے تو یہی کافی ہے
کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا وہ ایمان لاتے ہیں بتوں پر اور شیطان پر اور کہتے ہیں ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے کفر کیا (یعنی مشرکین) کہ ان اہل ایمان سے زیادہ ہدایت پر تو یہ ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پاؤ گے
کیا ان کا کوئی حصہ ہے اقتدار میں ؟ اگر ایسا کہیں ہوتا تو یہ دوسرے لوگوں کو تل کے برابر بھی کوئی شے دینے کو تیار نہ ہوتے
کیا یہ حسد کر رہے ہیں لوگوں سے اس پر کہ جو اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے عطا کردیا ہے ؟ تو ہم نے آل ابراہیم ؑ کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بہت بڑی حکومتیں بھی دیں
پس ان میں سے وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور وہ بھی ہیں جو اس سے رک گئے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
یقیناً جو لوگ ہماری آیات کا کفر کریں گے ایک وقت آئے گا کہ ہم انہیں آگ میں جھونک دیں گے اور جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم ان کو دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں یقیناً اللہ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے عنقریب انہیں ہم داخل کریں گے ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی وہ رہیں گے ان میں ہمیشہ ہمیش ان کے لیے اس میں ہوں گی بڑی پاک باز بیویاں اور ہم انہیں داخل کریں گے گھنی چھاؤں میں
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو یقیناً یہ بہت ہی اچھی نصیحتیں ہیں جو اللہ تمہیں کر رہا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے
اے اہل ایمان ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولوالامر کی بھی (اطاعت کرو) پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف رائے ہوجائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم واقعتا اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو یہی طریقہ بہتر بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے بھی بہت مفید ہے
کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کی طرف جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی ﷺ !) آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا وہ چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات کے فیصلے طاغوت سے کروائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا کفرکریں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو (اے نبی !) آپ دیکھتے ہیں کہ یہ منافق آپ کے پاس آنے سے کنی کتراتے ہیں
پھر اس وقت کیا ہوا جب ان پر کوئی مصیبت آگئی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے پھر وہ آپ کے پاس آئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہم تو صرف بھلائی اور موافقت چاہتے تھے
یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے تو (اے نبی !) آپ ان سے چشم پوشی کیجیے اور ان کو ذرا نصیحت کیجیے اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہیے جو ان کے دلوں میں اتر جائے
ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے اور اگر وہ جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ یقیناً اللہ کو بڑا توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا پاتے
پس نہیں آپ کے رب کی قسم ! یہ ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ آپ کو حکم نہ مانیں ان تمام معاملات میں جو ان کے مابین پیدا ہوجائیں پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور سرتسلیم خم کریں جیسے کہ سرتسلیم خم کرنے کا حق ہے
اور اگر ہم نے ان پر یہ فرض کردیا ہوتا کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکلو اپنے گھروں سے تو یہ اس کی تعمیل نہ کرتے سوائے ان میں سے چند ایک کے اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی ان کو نصیحت کی جارہی ہے تو یہی ان کے لیے بہتر ہوتا اور انہیں دین پر ثابت قدم رکھنے والا ہوتا
اور اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے بہت بڑا اجر دیتے
اور انہیں ہدایت فرما دیتے سیدھی راہ کی طرف
اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول ﷺ کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام صدیقین شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے
یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے ہر شے کے جاننے کے لیے
اے اہل ایمان اپنے تحفظ کا سامان (اور اپنے ہتھیار) سنبھالو اور (جہاد کے لیے) نکلو خواہ ٹکڑیوں کی صورت میں خواہ فوج کی شکل میں
اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیر لگا دیتے ہیں پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو وہ کہے گا کہ مجھ پر تو اللہ نے بڑا انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوا
اور اگر تمہیں کوئی فضل پہنچ جائے اللہ کی طرف سے تو اس وقت وہ پھر (حسرت کے ساتھ) کہے گا جیسے تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں اے کاش کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا ہوتا تو یہ بڑی کامیابی مجھے بھی حاصل ہوجاتی
) پس اللہ کی راہ میں قتال کرنا چاہیے ان لوگوں کو جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی راہ میں قتال کرے گا تو خواہ وہ مارا جائے یا غالب ہو ہم اسے (دونوں حالتوں میں) بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم قتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں کی خاطر جو مغلوب بنا دیے گئے ہیں جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں نکال اس بستی سے جس کے رہنے والے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے خاص اپنے فضل سے کوئی مددگار بھیج دے
جب لوگ ایمان والے ہیں وہ قتال کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو لوگ کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں قتال کر رہے ہیں تو تم جنگ کرو شیطان کے ساتھیوں سے یقیناً شیطان کی چال بڑی کمزور ہے
تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ؟ اور وہ کہتے ہیں پروردگار ! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی ؟ کیوں نہ ابھی ہمیں کچھ اور مہلت دی ؟ (اے نبی !) کہہ دیجیے دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت بہت بہتر ہے اس کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کرے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا
تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو پالے گی خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ (اے محمد ﷺ یہ آپ کی وجہ سے ہے کہہ دیجیے سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات بھی نہیں سمجھتے !
(اے مسلمان !) تجھے جو بھلائی بھی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ خود تیرے نفس کی طرف سے ہے اور (اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو تو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہ کے طو رپر
جس نے اطاعت کی رسول کی اس نے اطاعت کی اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بناکر نہیں بھیجا ہے
اور کہتے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے پھر جب آپ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپس میں ایسے مشورے کرتا ہے جو ان کے اپنے قول کے خلاف ہے اور اللہ لکھ رہا ہے جو بھی وہ مشورے کرتے ہیں تو (اے نبی ﷺ آپ ان سے چشم پوشی کیجیے اور آپ اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ کافی ہے بھروسے کے لیے
کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟ تو اس میں وہ بہت سے تضادات پاتے
اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے امن کی یا خطرے کی تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول ﷺ اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو یہ بات ان میں سے ان لوگوں کے علم میں آجاتی جو بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں تو تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے سوائے چند ایک کے
پس (اے نبی ﷺ !) آپ جنگ کریں اللہ کی راہ میں ! آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے اپنی ذات کے البتہ اہل ایمان کو آپ اس کے لیے اکسائیں بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کافروں کی قوت کو روک دے اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت شدید ہے قوت میں بھی اور سزا دینے میں بھی
جو کوئی سفارش کرے گا بھلائی کی اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی سفارش کرے گا برائی کی تو اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قوت رکھنے والا ہے
اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز کا حساب کرنے والا ہے
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہیں لازماً جمع کرے گا قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہوگا ؟
پس تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو ؟ اور اللہ نے تو ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب الٹ دیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو ہدایت دے دو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے ؟ اور جس کو اللہ راستے سے ہٹا دے اس کے لیے تم کوئی راستہ نہ پاؤ گے
یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا ہے تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ تو اب ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اللہ کی راہ میں اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں (ہجرت نہ کریں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو بھی اپنا ساتھی اور مددگار مت بناؤ
سوائے ان کے جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ دل برداشتہ ہوں اس بات سے کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اگر اللہ چاہتاتو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے لڑتے پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہیں بھی ایسے لوگوں کے خلاف اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی
تم پاؤ گے ایک اور قسم کے لوگوں کو بھی جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب بھی فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں تو اس کے اندر اوندھے ہوجاتے ہیں پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تمہارے سامنے صلح و سلامتی پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہیں سند (اور قوت) عطا کردی ہے
کسی مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ ایک مؤمن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو ادا کرنا اِلاّ یہ کہ وہ معاف کردیں اور اگر وہ (مقتول) کسی ایسے قبیلے سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے اور تھا وہ مسلمان تو پھر صرف ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا تو پھر دیت بھی دینا ہوگی اس کے گھر والوں کو اور ایک مؤمن غلام بھی آزاد کرنا ہوگا پھر جو یہ (غلام آزاد) نہ کرسکے تو روزے رکھے دو مہینوں کے متواتر۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ (قبول کرنے کا ذریعہ) ہے اور یقیناً اللہ تو علیم و حکیم ہے۔
اور جو کوئی قتل کرے گا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر تو اس کا بدلہ جہنّم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ کا غضب اس پر ہوگا اور اللہ نے اس پر لعنت فرمائی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے
اے اہل ایمان جب تم اللہ کی راہ میں نکلوتو تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص بھی تمہارے سامنے سلام پیش کرے (یا اسلام پیش کرے) اس کو یہ مت کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو تم دنیا کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے ہاں بڑی غنیمتیں ہیں تو (دیکھو) تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے
برابر نہیں ہیں اہل ایمان میں سے بیٹھ رہنے والے بغیر عذر کے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد (قتال) کے لیے نکلتے ہیں اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ نے فضیلت دی ہے ان مجاہدین کو جو اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے ہیں بیٹھے رہنے والوں پر ایک بہت بڑے درجے کی (اگرچہ) سب کے لیے اللہ کی طرف سے اچھا وعدہ ہے لیکن فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک اجر عظیم کی (صورت میں)
(ان کے لیے) اس کی طرف سے بلند درجات بھی ہوں گے اور مغفرت و رحمت بھی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
یقیناوہ لوگ کہ جن کو فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وہ ان سے کہیں گے یہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہیں گے ہم مجبور اور کمزوربنا دیے گئے تھے اس زمین میں وہ (فرشتے) کہیں گے کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ تو یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔
سوائے ان مردوں عورتیں اور بچوں کے جن کو واقعتا دبا لیا گیا ہو نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ وہ راستہ جانتے ہیں
بعید نہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور اللہ واقعتا بخشنے والا اور معاف فرمانے والا ہے
اور جو کوئی ہجرت کرے گا اللہ کی راہ میں وہ پائے گا زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت اور جو کوئی اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا ہجرت کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہوگیا اور یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
اور (اے مسلمانو !) جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم نماز کو کچھ کم کرلیا کرو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں نقصان پہنچائیں گے یقینایہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
اور (اے نبی ﷺ جب آپ ﷺ ان کے درمیان موجود ہوں اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہوں تو ان میں سے ایک گروہ کو کھڑے ہونا چاہیے آپ ﷺ کے ساتھ اور وہ اپنا اسلحہ لیے ہوئے ہوں پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہوجائیں اور آئے دوسرا گروہ جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھیں اور ان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کا سامان اور اپنا اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں یہ کافر لوگ تو اسی تاک میں رہتے ہیں کہ تم جیسے ہی اپنے اسلحہ اور سازو سامان سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر ایک دم ٹوٹ پڑیں اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو بارش کی وجہ سے یا تم بیمار ہوجاؤ اور (ایسی صورتوں میں) تم اپنا اسلحہ اتار کر رکھ دو البتہ اپنا بچاؤ ضرور کرلیا کرو یقیناً اللہ نے کافروں کے لیے بہت ذلت آمیز عذاب تیارکر رکھا ہے
پھر جب تم (اس طریقے سے) نماز ادا کرلو تو پھر ذکر کرو اللہ کا کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے پھر جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو پھر نماز کو قائم کرو (تمام آداب و شرائط کے ساتھ) یقیناً نماز اہل ایمان پر فرض کی گئی ہے وقت کی پابندی کے ساتھ
اور اس دشمن گروہ کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تمہاری طرح انہیں بھی تو تکلیف پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جیسی امیدیں وہ نہیں رکھتے اور یقیناً اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی
(اے نبی ﷺ یقیناہم نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے حق کے ساتھ تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے مابین فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے اور آپ ﷺ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں
اور اللہ سے استغفار کریں یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
اور آپ ﷺ مت جھگڑئیے ان لوگوں کی طرف سے جو اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں یقیناً اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں ہیں خیانت میں بہت بڑھے ہوئے اور گنہگار لوگ
یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ تو ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے
یہ تم لوگ ہو جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ان (مجرموں) کی طرف سے جھگڑا کرلیا مگر قیامت کے دن اللہ سے ان کے بارے میں کون جھگڑا کرے گا ؟ یا کون ہوگا جو (وہاں) ان کا وکیل بن سکے گا ؟
اور جو کوئیُ بری حرکت کرے یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھے اور پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو پائے گا بخشنے والا بہت رحم کرنے والا۔
جو کوئی بھی گناہ کماتا ہے تو وہ اس کا وبال اپنی ہی جان پر لیتا ہے۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے۔
اور جو کوئی کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اس کا الزام کسی بےگناہ پر لگا دیتا ہے تو اس نے اپنے سر ایک بہت بڑا بہتان اور بہت صریح گناہ کا بوجھ لے لیا
اور (اے نبی ﷺ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ ﷺ کے شامل حال نہ ہوتی تو ان (منافقین) کا ایک گروہ تو اس پر تل گیا تھا کہ آپ کو گمراہ کر دے اور حقیقت میں وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور (اے نبی ﷺ وہ آپ ﷺ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے اور حکمت بھی اور آپ ﷺ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ ﷺ نہیں جانتے تھے اور یقیناً اللہ کا فضل ہے آپ ﷺ پر بہت بڑا۔
ان (منافقین) کی سرگوشیوں میں سے اکثر میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی الاّ یہ کہ کوئی تلقین کرے صدقہ و خیرات کی یا نیکی کی یا لوگوں کے معاملات کو درست کرنے کی اور جو شخص اس طرح (کی سرگوشی) کرے گا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے تو عنقریب ہم اسے دیں گے بہت بڑا اجر
اور جو رسول ﷺ کی مخالفت پر تل گیا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی اور وہ اہل ایمان کے راستے کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے تو ہم بھی اس کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس طرف اس نے خود رخ اختیار کرلیا ہو اور ہم اسے پہنچائیں گے جہنم میں اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی
اللہ ہرگز نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دے گا اس کے سوا جس کے لیے چاہے گا اور جو شرک کرتا ہے اللہ کے ساتھ وہ تو پھر گمراہ ہوگیا اور گمراہی میں بھی بہت دور نکل گیا
نہیں پکار تے یہ لوگ اللہ کے سوا مگر دیویوں کو اور وہ نہیں پکارتے کسی کو سوائے سرکش شیطان کے
اللہ نے اس پر لعنت فرما دی ہے اور اس نے کہا (اے اللہ) میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ تو لے کر ہی چھوڑوں گا۔
اور میں لازماً ان کو بہکاؤں گا اور ان کو بڑی بڑی امیدیں دلاؤں گا اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ چوپایوں کے کان چیر دیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کریں گے اور جس کسی نے بھی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنا لیا تو وہ بہت کھلے خسارے (اور تباہی) میں پڑگیا
وہ (شیطان) ان سے وعدے بھی کرتا ہے اور انہیں امیدیں بھی دلاتا ہے اور نہیں وعدہ کرتا ان سے شیطان مگر دھوکے کا
یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہاں سے وہ فرار کی کوئی صورت نہیں پائیں گے
اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں انہیں ہم عنقریب داخل کریں گے ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہوسکتا ہے ؟
(اے مسلمانو !) نہ تمہاری خواہشات پر (موقوف ہے) اور نہ اہل کتاب کی خواہشات پر جو کوئیُ برا کام کرے گا اس کی سزا اس کو مل کر رہے گی اور وہ نہیں پائے گا اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار
اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ صاحب ایمان تو یہ وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل کے برابر بھی کوئی حق تلفی نہیں کی جائے گی
اور اس سے بہتر دین کس کا ہوگا جس نے اپنا چہرہ (سر) اللہ کے سامنے جھکا دیا اور (اس کے بعد) احسان (کے درجے) تک پہنچ گیا اور اللہ نے تو ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا تھا
اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے
(اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ ﷺ سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے (وضاحت کرتا ہے) ان کے بارے میں اور جو تمہیں (پہلے سے) سنایا جا رہا ہے کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں مگر ایسی بےسہارا یتیم لڑکیوں سے نکاح نہ کرو کیونکہ : جن کو تم دیتے نہیں ہو جو اللہ نے ان کے لیے لکھ دیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان سے نکاح بھی کرو اور (اسی طرح) وہ بچے جو کمزور ہیں (جن پر ظلم ہوتا ہے) اور یہ (ہم نے تمہیں اتنے تفصیلی احکام دیے ہیں) کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر کاربند رہو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے واقف ہے
اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو اپنے شوہر سے زیادتی یا بےرخی کا تو ان دونوں پر کوئی الزام نہیں ہوگا کہ وہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہرحال بہتر ہے۔ البتہ انسانی نفس پر لالچ مسلط رہتا ہے اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو جان لو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
اور تمہارے لیے ممکن ہی نہیں کہ تم عورتوں کے درمیان پورا پورا انصاف کرسکو چاہے تم اس کے لیے کتنے ہی حریص ہو تو ایسا نہ ہو کہ تم ایک ہی کی طرف پورے کے پورے جھک جاؤ کہ دوسری بیوی کو معلّق کر کے چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرلو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ بھی غفور اور رحیم ہے
اور اگر وہ (میاں بیوی) دونوں علیحدہ ہوجائیں گے تو اللہ ان کو اپنی کشادگی سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا حکمت والا ہے
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور (دیکھو مسلمانو !) تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں بھی ہم نے وصیت کی تھی اور اب تمہیں بھی یہی وصیّت ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اگر تم نہ مانو گے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ تو خود غنی ہے اپنی ذات میں خودستودہ صفات ہے
اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے اور اللہ کافی ہے کارساز ہونے کے اعتبار سے
اے لوگو ! وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے اور یقیناً اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے
جو کوئی بھی دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو اللہ کے پاس ہے ثواب دنیا کا بھی اور آخرت کا بھی اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے
اے اہل ایمان کھڑے ہوجاؤ پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر خواہ یہ (انصاف کی بات اور شہادت) تمہارے اپنے خلاف ہو یا تمہارے والدین کے یا تمہارے قرابت داروں کے چاہے وہ شخص غنی ہے یا فقیر اللہ ہی دونوں کا پشت پناہ ہے تو تم خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا کہ تم عدل سے ہٹ جاؤ۔ اگر تم زبانوں کو مروڑو گے یا اعراض کرو گے تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے
اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جو اس نے نازل فرمائی اپنے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل فرمائی اور جو کوئی کفر (انکار) کرے گا اللہ کا اس کے فرشتوں کا اس کی کتابوں کا اس کے رسولوں کا اور قیامت کے دن کا تو وہ گمراہ ہوگیا اور گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے تو اللہ نہ ان کی مغفرت کرنے والا ہے اور نہ وہ انہیں راہ راست دکھائے گا
(اے نبی ﷺ ان منافقوں کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے
جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو اپنادوست بناتے ہیں حالانکہ عزت تو کلُ کی کل اللہ کے اختیار میں ہے
اور یہ بات وہ تم پر نازل کرچکا ہے کتاب میں کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھویہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ورنہ تم بھی انہی کی مانند ہوجاؤ گے یقیناً اللہ تعالیٰ جمع کرنے والا ہے منافقوں کو بھی اور کافروں کو بھی جہنم میں سب کے سب
وہ لوگ جو تمہارے لیے انتظار کی حالت میں ہیں تو اگر تم لوگوں کو اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوجائے تو یہ کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ اور اگر کوئی حصہ پہنچ جائے کافروں کو تو وہ کہیں گے (اپنے کافر ساتھیوں سے) کیا ہم نے تمہارا گھیراؤ نہیں کرلیا تھا ؟ اور ہم نے بچایا نہیں تم کو مسلمانوں سے ؟ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمہارے مابین قیامت کے دن اور اللہ اہل ایمان کے مقابلے میں کافروں کو راہ یاب نہیں کرے گا
یقیناً منافق کوشش کر رہے ہیں اللہ کو دھوکہ دینے کی اور وہ ان کو دھوکہ دے کر رہے گا اور جب وہ کھڑے ہوتے ہیں نماز کے لیے تو کھڑے ہوتے ہیں بڑی کسل مندی کے ساتھ محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم
یہ اس کے مابین مذبذب (ہو کر رہ گئے) ہیں نہ تو یہ ان کی جانب ہیں اور نہ ہی ان کی جانب ہیں اور جسے اللہ ہی نے گمراہ کردیا ہو تو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہ پاؤ گے
اے اہل ایمان مت بناؤ کافروں کو اپنادلی دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا تم چاہتے ہو کہ تم اپنے خلاف اللہ کے ہاتھ میں ایک صریح حجت دے دو ؟
یقیناً منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تم نہ پاؤ گے ان کے لیے کوئی مدد گار
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور اصلاح کرلیں اور اللہ سے چمٹ جائیں اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کرلیں تو پھر یہ لوگ اہل ایمان میں شامل ہوجائیں گے اور اللہ اہل ایمان کو عنقریب بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا
(اے منافقو ذراسوچو !) اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا ؟ اگر تم شکر اور ایمان کی روش اختیار کرو اور اللہ بہت ہی قدر دانی فرمانے والا اور ہر شے کا علم رکھنے والا ہے
اللہ کو بالکل پسند نہیں ہے کہ کسی بری بات کو بلند آواز سے کہا جائے سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے
اگر تم بھلائی کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ یا تم برائی کو معاف کردیا کرو تو یقیناً اللہ بھی معاف فرمانے والا قدرت رکھنے والا ہے۔
یقیناً وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کا اور وہ چاہتے ہیں کہ تفریق کردیں اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ کو مانیں گے اور کچھ کو نہیں مانیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بین بین ایک راستہ نکال لیں
یہی لوگ حقیقت میں پکے ّ کافر ہیں اور ہم نے ان کافروں کے لیے بڑا اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے
اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پر اور انہوں نے ان میں سے کسی کے مابین کوئی تفریق نہیں کی یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے
(اے نبی ﷺ اہل کتاب آپ ﷺ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار لائیں انہوں نے تو (ان سے یہ بھی) کہا تھا کہ ہمیں دکھاؤ اللہ کو علانیہ تو ان کو آپکڑا تھا کڑک نے ان کے اس گناہ کی پاداش میں پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اس کے بعد کہ ان کے پاس بہت واضح نشانیاں آچکی تھیں تو ہم نے ان تمام چیزوں سے بھی در گزر کیا اور ہم نے موسیٰ کو عطا کیا بڑا واضح غلبہ
اور ہم نے ان کے سروں پر معلق کردیا تھا طور پہاڑ کو جب کہ ان سے عہد لیا جا رہا تھا اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں داخل ہوں جھک کر اور ہم نے ان سے (یہ بھی) کہا تھا کہ سبت (ہفتے کے دن کے قانون) میں حد سے تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے (ان تمام باتوں کے بارے میں) بڑے گاڑھے قول وقرار لیے تھے
تو انہوں نے جو اپنے اس میثاق کو توڑ ڈالا اس کے سبب اور ان کے اللہ کی آیات کے انکار اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے (کے سبب سے) اور ان کے اس طرح کہنے (کی پاداش) میں کہ ہمارے دل تو غلافوں میں بند ہیں۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ نے ان (کے دلوں) پر مہر کردی ہے ان کے کفر کے باعث پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت ہی شاذ
اور بسبب ان کے کفر کے اور ان باتوں کے جو انہوں نے مریم کے خلاف کیں ایک بہت بڑے بہتان کے طور پر
اور بسبب ان کے یہ کہنے کے کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم کو اللہ کے رسول کو ! حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی دی بلکہ اس کی شبیہہ بنا دی گئی ان کے لیے اور جو لوگ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں وہ یقیناً شکوک و شبہات میں ہیں ان کے پاس اس ضمن میں کوئی علم نہیں ہے سوائے اس کے کہ گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا
بلکہ اللہ نے اسے اٹھا لیا اپنی طرف اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا
اور نہیں ہوگا اہل کتاب میں سے کوئی بھی مگر اس پر ایمان لا کر رہے گا اس کی موت سے قبل اور قیامت کے دن وہی ان کے خلاف گواہ (بن کر کھڑا) ہوگا
توبسبب ان یہودی بن جانے والوں کی ظالمانہ روش کے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردیں جو اصلاً ان کے لیے حلال تھیں اور بسبب اس کے کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے (خود رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی) روکتے ہیں۔
اور بسبب ان کے سود کھانے کے جبکہ اس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بسبب ان کے لوگوں کے مال ناحق ہڑپ کرنے کے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
البتہ جو لوگ ان میں سے پختہ علم والے ہیں اور اہل ایمان ہیں وہ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو (اے نبی ﷺ آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ نماز قائم کرنے والے ہیں زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور ایمان رکھنے والے ہیں اللہ پر بھی اور یوم آخرت پر بھی یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم ضرور اجر عظیم عطا فرمائیں گے
(اے نبی ﷺ ہم نے آپ ﷺ کی جانب بھی وحی کی ہے جیسے ہم نے نوح ؑ اور ان کے بعد بہت سے انبیاء پر وحی کی تھی اور ہم نے ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ اسحاق ؑ یعقوب ؑ اور ان کی اولاد کی طرف بھی وحی کی اور عیسیٰ ؑ ایوب ؑ یونس ؑ ہارون ؑ اور سلیمان ؑ کی طرف (بھی وحی کی)۔ اور داؤد ؑ کو تو ہم نے زبور (جیسی کتاب) عطا فرمائی
اور (بھیجے) وہ رسول جن کا ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ کرچکے ہیں اور ایسے رسول (بھی) جن کے حالات ہم نے آپ ﷺ کے سامنے بیان نہیں کیے اور موسیٰ ؑ سے تو کلام کیا اللہ نے جیسے کہ کلام کیا جاتا ہے
یہ رسول ؑ (بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کرتا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجتّ (دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے
لیکن اللہ گواہ ہے کہ جو کچھ اس نے نازل کیا ہے (اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی طرف وہ اس نے نازل کیا ہے اپنے علم سے اور فرشتے بھی اس پر گواہ ہیں اگرچہ اللہ (اکیلا ہی) گواہ ہونے کے اعتبار سے کافی ہے
بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا (خود کو بھی اور دوسروں کو بھی) تو یقیناً وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ظلم (شرک) کے مرتکب ہوئے اللہ انہیں ہرگز بخشنے والا نہیں ہے اور نہ انہیں کسی راستے کی ہدایت دے گا
سوائے جہنم کے راستے کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے
اے لوگو ! تمہارے پاس آچکا ہے رسول ﷺ حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تو اب تم ایمان لے آؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم لوگ کفر پر اڑے رہو گے تو (اللہ کا کیا بگاڑ لو گے ؟) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے حکیم بھی
اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو (مبالغہ) نہ کرو اور اللہ کی طرف کوئی شے منسوب نہ کرو سوائے اس کے جو حق ہو دیکھو مسیح عیسیٰ ؑ ابن مریم تو بس اللہ کے رسول ؑ تھے اور وہ اس کا ایک کلمہ تھے جو اس نے القا کیا مریم ؑ پر اور ایک روح تھے اس کی طرف سے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور تثلیث (تین خداؤں) کا دعویٰ مت کرو باز آجاؤ اسی میں تمہاری بہتری (خیریت) ہے جان لو کہ اللہ تو بس ایک ہی الٰہِ واحد ہے وہ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ اسی کا ہے اور اللہ کافی ہے بطور کار ساز
مسیح ؑ کو تو اس میں ہرگز کوئی عار نہیں ہے کہ وہ بنے اللہ کا بندہ اور نہ ہی ملائکہ مقربین کو اس میں کوئی عار ہے (کہ انہیں اللہ کا بندہ سمجھا جائے) اور جو کوئی بھی عار سمجھے گا اس کی بندگی میں اور تکبر کرے گا تو اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا
پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو ان کو تو ان کا پورا پورا اجر بھی دے گا اور انہیں مزید بھی دے گا اپنے خاص فضل میں سے اور جنہوں نے (عبدیت کے اندر) عار محسوس کی تھی اور تکبر کیا تھا تو ان کو وہ درد ناک عذاب دے گا اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار
اے لوگو ! آچکی ہے تمہارے پاس ایک برہان تمہارے رب کی طرف سے اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کردیا ہے۔
پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں گے اور اس کے ساتھ چمٹ جائیں گے تو انہیں وہ داخل کرے گا اپنی رحمت اور اپنے فضل میں اور انہیں ہدایت دے گا اپنی طرف صراط مستقیم کی
(اے نبی ﷺ یہ آپ ﷺ سے فتویٰ مانگ رہے ہیں۔ کہو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دے رہا ہے اگر کوئی شخص فوت ہوگیا اور اس کی کوئی اولاد نہیں (اور نہ ماں باپ ہیں) اور اس کی صرف ایک بہن ہے تو اس کے لیے اس کے ترکے میں سے نصف ہے اور وہ مرد (بھائی) اس (بہن) کا مکمل وارث ہوگا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہیں پھر اگر دو (یا دو سے زیادہ) بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حق دار ہوں گی اور اگر کئی بہن بھائی ہوں تو ایک مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہوگا اللہ واضح کیے دیتا ہے تمہارے لیے مبادا کہ تم گمراہ ہوجاؤ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے