اس کتاب کا نازل کیا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست کمال حکمت والا ہے
الزمر
Az-Zumar
The Troops·Meccan·75 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
(اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے
آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور کو اولیاء بنا یا ہوا ہے (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں یقینا اللہ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ ہرگز ہدایت نہیں دیتا جھوٹے اور نا شکرے لوگوں کو۔
اگر اللہ کا واقعی ارادہ ہوتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے اکیلا اور (کل کائنات پر) چھایا ہوا
اس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ وہ رات کو لپیٹ دیتا ہے دن پر اور دن کو لپیٹ دیتا ہے رات پر اور اس نے مسخر کردیا سورج اور چاند کو۔ یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے۔ آگاہ ہو جائو ! وہ زبردست ہے بہت بخشنے والا
اس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے پھر اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتار دیے اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتار دیے وہ پیدا کرتا ہے تمہیں تمہارے مائوں کے پیٹوں میں ایک خلق کے بعد دوسری خلق (یہ تخلیق ہوتی ہے) تین اندھیروں کے اندر وہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم لوگ کہاں سے پھرائے جا رہے ہو !
اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے راضی ہوگا اور نہیں اٹھائے گی بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسرے کے بوجھ کو پھر تمہارا لوٹنا ہے تمہارے رب ہی کی طرف پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے یقینا وہ جاننے والا ہے سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں کا۔
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ عطا کردیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے اور وہ اللہ کے ّمد ِمقابل ٹھہرا لیتا ہے تاکہ بہکائے لوگوں کو اس کے راستے سے اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ مزے اڑا لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑی دیر یقینا تم آگ والوں میں سے ہو
بھلا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں سجود و قیام کرتے ہوئے وہ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے ؟ حقیقی نصیحت اور سبق تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا پورا دیا جائے گا بغیر حساب کے
(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے
اور مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرماں بردار میں خود بنوں۔
کہہ دیجیے کہ مجھے خود اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں
کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے
تو تم جس کو چاہو پوجو اس کے سوا ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اصل میں خسارے میں رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈالا قیامت کے دن آگاہ ہو جائو یہی تو کھلا خسارا ہے
ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے بادل ہوں گے تہہ بر تہہ اور نیچے سے بھی آگ کے بھب کے ہوں گے تہہ بر تہہ۔ اے میرے بندو ! پس تم مجھ سے ڈرو۔
اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کرلی (اس طرح) کہ اس کی بندگی نہ کی اور انہوں نے رجوع کرلیا اللہ کی طرف ان کے لیے بشارت ہے تو (اے نبی ﷺ !) میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے
جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل مند ہیں۔
تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فیصلہ ! تو (اے نبی ﷺ !) کیا آپ اس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے ؟
لیکن وہ لوگ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ہوں گے بالا خانوں پر بالا خانے (ایک دوسرے کے اوپر) ُ چنے ہوئے۔ ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں پھر وہ پک کر تیار ہوجاتی ہے پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ہے پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔ یقینا اس میں یاد دہانی (اور سبق) ہے ہوشمند لوگوں کے لیے۔
بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اللہ کے ذکر سے۔ ! یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں اور بار بار دہرائے گئے ہیں اس (کی تلاوت) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اس (کی تلاوت) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم پڑجاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
بھلا وہ شخص جو اپنے چہرے پر روکے گا بدترین عذاب قیامت کے دن ! اور کہہ دیا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب چکھو مزہ اس کا جو کچھ کمائی تم کرتے رہے تھے
(اے نبی ﷺ !) جھٹلایا تھا انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے تو ان پر آن دھمکا عذاب وہاں سے جہاں سے انہیں گمان تک نہیں تھا۔
تو اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !
اور ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں شاید کہ وہ سبق حاصل کریں۔
(ہم نے اسے بنا دیا ہے) قرآن عربی اس میں کوئی کجی نہیں ہے شاید کہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کریں۔
اللہ نے مثال بیان فرمائی ہے ایک شخص کی جس میں بہت سے آپس میں ضد رکھنے والے آقا شریک ہیں اور ایک وہ شخص ہے جو پورے طور پر ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں مثال میں ؟ کل ُ تعریف اللہ کے لیے ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
(اے نبی ﷺ !) یقینا موت آپ پر بھی وارد ہوگی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں
پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس آپس میں جھگڑو گے
اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جھٹلائے سچی بات کو جبکہ اس کے پاس آگئی ہو ! تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا !
اور وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ ہیں کہ جو متقی ہیں۔
ان کے لیے اپنے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جو یہ چاہیں گے۔ یہی بدلہ ہے نیکوکاروں کا !
ا کہ اللہ ان سے دور کر دے ان کے ُ برے اعمال کو اور ان کو اجر عطا فرمائے ان کے بہترین اعمال کے حساب سے
کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے ؟ اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے علاوہ (ان کے معبود) ہیں۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔
اور جس کو اللہ ہدایت دے دے توا سے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں تو کیا اللہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے ؟
اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ اللہ نے ! تو ان سے کہیے کہ ذرا غور کرو ! جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا اگر اللہ نے میرے لیے کسی تکلیف کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ (تمہارے معبود) اس تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟ یا اگر اس نے میرے لیے رحمت کا کوئی فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ میرے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ! اور اسی پر توکل ّکرتے ہیں توکل کرنے والے
آپ کہیے کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنی جگہ پر جو کرسکتے ہو کرلو میں بھی اپنی سی محنت کر رہا ہوں پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا
کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے اور اس پر وہ عذاب نازل ہوجائے جو ہمیشہ رہنے والا ہو !
(اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کردی ہے لوگوں کے لیے حق کے ساتھ تو جو کوئی ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں
اللہ قبض کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں تو جس کی موت کا وہ فیصلہ کرچکا ہو اس کو اپنے پاس روکے رکھتا ہے اور دوسروں کو واپس بھیج دیتا ہے ایک وقت ِمعین ّ تک کے لیے یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں
کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی سفارشی بنا رکھے ہیں ؟ (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے کہیے اگرچہ انہیں سرے سے کوئی اختیار ہی نہ ہو اور نہ ہی انہیں کچھ سمجھ ہو (پھر بھی وہ تمہاری شفاعت کریں گے) ؟
آپ ﷺ کہیے کہ شفاعت ُ کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے
اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ُ کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب وہ خوش ہوجاتے ہیں
آپ ﷺ کہیے : اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! غائب اور حاضر کے جاننے والے ! یقینا تو ُ فیصلہ کرے گا اپنے بندوں کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
اور اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہوتا جو بھی زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہوتا تو وہ قیامت کے دن ُ برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ میں دے دیتے۔ اور (اُس روز) ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ کچھ آجائے گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا
اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کی کمائی کے سارے ُ برے نتائج اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آسکی
پس انہیں اس کے بدنتائج پہنچ گئے جو وہ کماتے تھے۔ ور ان میں سے بھی جو لوگ ظلم (شرک) کی روش اختیار کریں گے ان کو پہنچ کر رہیں گے ان کے کرتوتوں کے برے نتائج اور وہ (اللہ کو) عاجز کردینے والے نہیں ہیں
کیا یہ جانتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو کشادہ کردیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ماننے والے ہیں
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقینا اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا یقینا وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جائو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب ّمسلط ہوجائے پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی
اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب اچانک آدھمکے اور تمہیں اس کا گمان تک نہ ہو
مبادا کہ اس وقت کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو مجھ سے اللہ کی جناب میں ہوئی اور میں تو مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔
یا وہ یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقین میں سے ہوجاتا !
یا جب وہ عذاب کو دیکھے تو یوں کہے کہ اگر مجھے ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو میں محسنین میں سے ہو جائوں
کیوں نہیں ! تیرے پاس میری آیات آئی تھیں تو تو ُ نے ان کو جھٹلا دیا تھا اور تکبر کیا تھا اور تو کافروں میں سے تھا
اور قیامت کے دن تم دیکھو گے ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے متکبرین کا ؟
اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی (اور انہیں پہنچا دے گا) ان کی کامیابی کی جگہوں پر نہ ان کو کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی ہرچیز پر نگہبان ہے
اسی کے لیے ہیں تمام کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی ہیں گھاٹے میں رہنے والے
(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا تم مجھے بھی یہ مشورہ دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟
اور (اے نبی ﷺ !) آپ کی طرف تو وحی کی جا چکی ہے اور جو (رسول) آپ سے پہلے تھے ان کی طرف بھی (وحی کردی گئی تھی) اگر آپ بھی (بالفرض) شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور آپ بھی نہایت خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
بلکہ آپ ﷺ صرف اللہ ہی کی بندگی کیجیے اور بن جائیے شکر گزار بندوں میں سے !
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا اور زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا اس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
اور صور میں پھونکا جائے گا تو بےہوش ہوجائیں گے جو کوئی بھی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا پھر اس (صور) میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ سب کے سب کھڑے ہوجائیں گے دیکھتے ہوئے
اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور اعمال نامہ لا کر رکھ دیا جائے گا اور لائے جائیں گے انبیاء اور شہید اور ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا حق کے ساتھ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
اور پورا پورا دے دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ کہ اس نے عمل کیا ہوگا اور اللہ خوب جانتا ہے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں
اور ہانک کرلے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ در گروہ یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول ؑ نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے وہ کہیں گے کیوں نہیں ! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کررہا کہہ دیا جائے گا
ان سے کہ داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانہ متکبرین کا
اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جنت کی طرف جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیے رہے تھے گروہ در گروہ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے (پہلے ہی) کھولے جا چکے ہوں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے : آپ پر سلام ہو آپ لوگ کتنے پاکباز ہیں اب داخل ہوجائیے اس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے
اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں و بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !
اور تم دیکھو گے فرشتوں کو کہ وہ عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی حمد کے ساتھ ور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ ُ کل کی کل حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے