(اے نبی ﷺ !) اللہ کا تقویٰ اختیار کیجیے اور کافرین و منافقین کی باتیں نہ مانیے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
الأحزاب
Al-Ahzab
The Combined Forces·Medinan·73 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اور آپ ﷺ پیروی کیجیے اس (ہدایت) کی جو آپ ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی ہے آپ ﷺ کے رب کی جانب سے۔ یقینا اللہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
اور آپ ﷺ اللہ پر توکل ّکیجیے۔ اور اللہ کافی ہے توکل کے لیے۔
اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو۔ ور نہ ہی اس نے تمہارے ُ منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
(لہٰذا) انہیں پکارا کرو ان کے باپوں کی نسبت سے یہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے اللہ کے نزدیک۔ اور اگر تمہیں ان کے باپوں کے بارے میں پتا نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ اور اس معاملے میں تم سے جو خطا ہوئی ہے اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں لیکن تم لوگ جو کچھ اپنے دلوں کے ارادے سے کرو گے (اس کا ضرور احتساب ہوگا) اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
یقینا نبی ﷺ کا حق مومنوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ ہے اور نبی ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رحمی رشتے رکھنے والے اللہ کی کتاب کے مطابق مومنین و مہاجرین کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ } یہ سب باتیں (پہلے سے) کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا اور آپ ﷺ سے بھی اور نوح ؑ ابراہیم موسیٰ ؑ ٰ اور عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔
تا کہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔
اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہو جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکرتو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔ } اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے
اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مگر دھوکے کا۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں چناچہ تم لوٹ جائو اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ } حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔
اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا تو وہ اسے قبول کرلیتے اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔
حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ } اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو } اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔
آپ ﷺ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا ؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا ؟ } اور یہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔
اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جائو } اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔
(اے مسلمانو !) تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں تو جب خطرہ پیش آجاتا ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اس شخص کی (آنکھوں کی) طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے لالچ کرتے ہوئے مال پر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔ اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ بدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔ } اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔
(اے مسلمانو !) تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے (یہ اسوہ ہے) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو } اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔
اور جب اہل ِایمان نے دیکھا ان لشکروں کو تو انہوں نے کہا کہ یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اور بالکل سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے۔ } اور اس (واقعہ) نے ان میں کسی بھی شے کا اضافہ نہیں کیا مگر ایمان اور فرمانبرداری کا۔
اہل ِایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کرچکے اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں } اور انہوں نے ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کی
تا کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے } یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور اللہ کافی رہا اہل ِایمان کی طرف سے قتال کے لیے۔ } اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا سب پر غالب ہے۔
اور اللہ نے اتار لیا اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا } تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو
اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔ } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو } تو آئو میں تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو (اطمینان رکھو کہ) اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے } اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے } اور بات کرو معروف انداز میں۔
اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح اور نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔ } اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔
اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں) } یقینا اللہ بہت باریک بین ہرچیز سے باخبر ہے۔
یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں } اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔ } اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔
اور (اے نبی ﷺ !) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ ﷺ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ ﷺ اس سے ڈریں۔ پس جب زید ؓ نے اس سے اپنا تعلق منقطع کرلیا تو اسے ہم نے آپ ﷺ کی زوجیت میں دے دیا تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔
نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔
وہ (اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
(دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔
اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔
} جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا سلام ہوگی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر
اے نبی ﷺ ! یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا
اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر
اور آپ ﷺ اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔
اور آپ ﷺ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا دھیان نہ کریں اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل ّکریں۔ اور اللہ کافی ہے (آپ ﷺ کے لیے) مددگار کے طور پر۔
اے اہل ایمان ! جب تم مومن خواتین سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ انہیں چھوئو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کی تم انہیں گنتی پوری کرائو۔ } پس انہیں کچھ دے دلا کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دو۔
اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں ور (ان کو بھی) جو آپ ﷺ کی ملک یمین (باندیاں) ہیں ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فے عطا کیں (اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے) اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ (رعایت) خالص آپ ﷺ کے لیے ہے مومنین سے علیحدہ۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان (عام مسلمانوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے } تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔ اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ان میں سے کسی کو (دوبارہ قریب کرنا) چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج نہیں یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔ } اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا بہت بردبار ہے۔
اب اس کے بعد اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی (اس کی اجازت ہے کہ) آپ ﷺ ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں اگرچہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے سوائے اس کے جو آپ ﷺ کی مملوکہ ہو } اور اللہ ہرچیز پر نگران ہے۔
اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی ﷺ کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ہاں جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہوا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجایا کرو اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہا کرو۔ تمہاری یہ باتیں نبی ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث تھیں مگر وہ (نبی ﷺ آپ لوگوں سے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اللہ حق (بیان کرنے) سے نہیں جھجکتا اور جب تمہیں نبی ﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔ یہ طرز عمل زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے بھی اور ان ؓ کے دلوں کے لیے بھی۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ (جائز ہے) کہ تم نکاح کرو آپ ﷺ کی بیویوں سے آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی۔ } یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔
خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو اللہ یقینا ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
کوئی حرج نہیں اُن (ازواجِ نبی ﷺ پر ان کے باپوں کے معاملے میں اور نہ (کوئی حرج ہے) ان کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں اور نہ ان کے بھائیوں کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کی بہنوں کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کی جان پہچان کی عورتوں کے بارے میں اور نہ ہی ان کی ِملک یمین کے بارے میں۔ } اور (اے نبی ﷺ کی بیویو !) تم اللہ سے ڈرتی رہو۔ یقینا اللہ ہرچیز پر گواہ ہے۔
یقینا اللہ اور اس کے فرشتے رحمتیں نازل کرتے ہیں نبی ﷺ پر } اے ایمان والو ! تم بھی آپ ﷺ پر رحمتیں اور سلام بھیجا کرو
یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو } اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اور ان کے لیے اس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو } تو انہوں نے اپنے سر بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ لے لیا ہے۔
اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان خواتین سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں۔ یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو انہیں کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے۔ } اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں تو (اے نبی ﷺ !) ہم آپ کو ان پر اکسا دیں گے } پھر وہ آپ ﷺ کے پڑوسی بن کر اس (شہر) میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ۔
یہ پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں جہاں بھی پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور ُ بری طرح قتل کردیے جائیں گے۔
اللہ کی یہی ُ سنت ّرہی ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔
(اے نبی ﷺ !) لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تمہیں کیا معلوم شاید کہ قیامت قریب ہی آچکی ہو
بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ نہیں پائیں گے وہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔
جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے } (اس وقت) وہ کہیں گے : ہائے کاش ! ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول ﷺ کی
اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔
اے ہمارے پروردگار ! ُ تو ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما بہت ہی بڑی لعنت۔
اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ ؑ کو اذیت دی تھی تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔
اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات کیا کرو سیدھی۔
اللہ تمہارے سارے اعمال درست کردے گا اور تمہاری خطائیں بخش دے گا۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند ہوگیا تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی۔
ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔
تا کہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک َمردوں اور مشرک عورتوں کو اور اللہ رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔