الۗمّۗرٰ یہ (اللہ کی) کتاب کی آیات ہیں۔ اور (اے نبی !) جو چیز آپ پر نازل کی گئی ہے آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (یا ایمان لانے والے نہیں ہیں)
الرعد
Ar-Ra'd
The Thunder·Medinan·43 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ہے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو پھر وہ متمکن ہوا عرش پر اور اس نے (مسلسل) کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت معین کے لیے وہ تدبیر فرماتا ہے اپنے امر کی اور تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور بنائے اس میں لنگر (یعنی پہاڑ) اور ندیاں اور اس نے ہر طرح کے پھلوں میں جوڑے بنائے وہ ڈھانپ دیتا ہے دن پر رات کو یقیناً اس میں نشانیاں ہیں غور وفکر کرنے والوں کے لیے
اور زمین میں قطعات ہیں ایک دوسرے سے متصل اور باغات انگوروں کے اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت جڑوں سے ملے ہوئے بھی اور الگ الگ بھی انہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے (اس کے باوجود) ہم کسی کو کسی پر فضیلت دے دیتے ہیں ذائقے میں یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے
اور اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو قابل تعجب ہے ان کا یہ قول کہ کیا جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم از سرِ نو وجود میں آئیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں اور یہی جہنمی ہیں اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش
اور یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں آپ سے برائی (عذاب) کے لیے بھلائی سے پہلے حالانکہ ان سے پہلے (بہت سی) مثالیں گزر چکی ہیں اور یقیناً آپ کا رب لوگوں کے حق میں معاف کرنے والا ہے ان کے ظلم کے باوجود اور یقیناً آپ کا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے (اے نبی !) آپ تو بس خبردار کردینے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے
اللہ خوب جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا اٹھائے ہوئے ہے اور (وہ جانتا ہے) جس قدر رحم سکڑتے ہیں یا بڑھتے ہیں اور ہرچیز اس کے ہاں اندازے کے مطابق ہے
وہ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا (وہ) بہت بڑا بہت بلندی والا ہے
(اس کے علم میں) برابر ہیں تم میں سے جو بات کو (دل میں) چھپائیں اور جو اسے (بلند آواز سے) ظاہر کریں اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں چلتے پھرتے ہوں
اس (انسان) کے لیے باری باری آنے والے (پہرے دار مقرر) ہیں وہ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے یقیناً اللہ کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود نہیں بدل دیتے اس (کیفیت) کو جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم کے لیے کسی بری شے (عذاب) کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس کو لوٹانے والا کوئی نہیں ہے اور نہیں ہے ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار
وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے بجلی (کی چمک) خوف سے بھی اور امید سے بھی اور وہ اٹھاتا ہے بڑے بوجھل بادل
اور تسبیح کرتی ہے کڑک اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے (بھی) اس کے خوف سے اور وہ بھیجتا ہے کڑک دار بجلیاں پھر وہ گرا دیتا ہے انہیں جس پر چاہتا ہے اور وہ (اس وقت) اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ بہت سخت ہے
اسی کا پکارنا حق ہے اور جن کو یہ لوگ پکار رہے ہیں اس کے سوا وہ ان کی دعا کو کسی طرح بھی قبول نہیں کرتے مگر جیسے کوئی پھیلا دے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس (کے منہ) تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا تو بالکل بےکار ہے
اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے آمادگی کے ساتھ بھی اور مجبوراً بھی اور ان کے سائے بھی صبح وشام (اُسی کو سجدہ کرتے ہیں)
(ان سے) پوچھئے کون ہے آسمانوں اور زمین کا مالک ؟ کہیے اللہ ہی ہے کہیے کیا تم نے اس کو چھوڑ کر ایسے حمایتی بنا لیے ہیں جو خوداپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے (ان سے) پوچھئے کیا برابر ہے اندھا اور دیکھنے والا ؟ یا کیا برابر ہیں اندھیرے اور روشنی کیا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک ٹھہرا لیے ہیں جنہوں نے تخلیق کی ہے اس کی تخلیق کی طرح تو یہ تخلیق ان پر مشتبہ ہوگئی ہے کہہ دیجیے کہ اللہ ہی خالق ہے ہر شے کا اور وہ ہے یکتا سب پر حاوی
وہ آسمان سے پانی برساتا ہے پھر تمام ندیاں بہنے لگتی ہیں اپنی اپنی وسعت کے مطابق پھر اٹھا لاتا ہے سیلاب ابھرتے جھاگ کو اور جن (دھاتوں) کو یہ لوگ آگ پر تپاتے ہیں زیور یا دوسری چیزیں بنانے کے لیے ان پر بھی اسی طرح کا جھاگ ابھرتا ہے اسی طرح اللہ حق و باطل کو ٹکراتا ہے تو جو جھاگ ہے وہ خشک ہو کر زائل ہوجاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لیے مفید ہوتی ہے وہ ٹھہر جاتی ہے زمین میں اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے
جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہا ان کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کی دعوت کو قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس ہو جو کچھ ہے زمین میں سب کا سب اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی تو وہ (یہ سب کچھ) ضرور بدلے میں دے ڈالیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
(اے نبی !) کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ حق ہے بھلا اس جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہے یقیناً نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں
وہ لوگ جو اللہ کے (ساتھ کیے گئے) عہد کو پورا کرتے ہیں اور قول وقرار کو توڑتے نہیں ہیں
اور جو لوگ جوڑتے ہیں اس کو جس کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا
اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے اور نماز قائم کی اور خرچ کیا اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا تھا پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی اور وہ بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے دار آخرت کی کامیابی ہے
(آخرت کا گھر) وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو بھی صالح ہوں گے ان کے آباء ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے اور ہر دروازے سے جنت کے فرشتے ان کے سامنے حاضر ہوں گے
(اور کہیں گے) سلامتی ہو آپ پر بسبب اس کے جو آپ لوگوں نے صبر کیا تو کیا ہی اچھا ہے یہ آخرت کا گھر
اور (اس کے برعکس) وہ لوگ جو توڑتے ہیں اللہ کے عہد کو اس کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد اور کاٹتے ہیں ان (رشتوں) کو جن کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہوگی اور ان کے لیے برا گھر (جہنم) ہے
اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے اور یہ لوگ مگن ہیں دنیا کی زندگی پر حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے تھوڑے سے فائدے کے
اور کہتے ہیں یہ کافر لوگ کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے آپ کہہ دیجیے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی طرف ہدایت اسی کو دیتا ہے جو خود (اس کی طرف) رجوع کرے
وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں آگاہ ہوجاؤ ! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی دل مطمئن ہوتے ہیں
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مبارک باد ہے اور لوٹنے کا بہت اچھا مقام ہے
(اے نبی !) اسی طرح ہم نے آپ کو بھیجا ہے ایک ایسی امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ تلاوت کر کے سنائیں ان لوگوں کو وہ (کتاب) جو ہم نے وحی کی ہے آپ کی طرف درآں حالیکہ یہ لوگ رحمٰن کا انکار کر رہے ہیں کہہ دیجیے کہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے
اور اگر ہوتا کوئی ایسا قرآن جس کے ذریعے سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے یا کلام کرتے اس کے ذریعے مردے (تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے) بلکہ اختیار توکل کا کل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا اہل ایمان اس پر مطمئن نہیں ہوجاتے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ہدایت دے دیتا اور جو کافر ہیں ان کو برابر پہنچتی رہے گی ان کے اعمال کے سبب کوئی نہ کوئی آفت یا ان کے گھروں کے قریب اترتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا
اور (اے نبی !) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے ڈھیل دی (کچھ عرصہ کے لیے) کافروں کو پھر میں نے ان کو پکڑ لیا تو کیسا رہا میرا عذاب
تو کیا وہ ہستی جو ہر جان سے محاسبہ کرنے والی ہے جو اس نے کمائی کی ہے (اوروں کی طرح ہوسکتی ہے) اور انہوں نے اللہ کے شریک بنا لیے ہیں آپ کہیے ! ذرا ان کے نام تو بتاؤ ! کیا تم اللہ کو جتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا زمین میں یا تم صرف سطحی سی بات کرتے ہو بلکہ ان کافروں کے لیے ان کی مکاریاں مزین کردی گئی ہیں اور وہ روک دیے گئے ہیں (سیدھے) راستے سے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے
ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا اور نہیں ہوگا کوئی بھی ان کو اللہ سے بچانے والا
مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے اس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اس کے پھل بھی ہمیشہ قائم رہنے والے ہوں گے اور اس کے سائے بھی یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی اور کافروں کا انجام تو آگ ہے
اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ خوش ہور ہے ہیں اس (قرآن) سے جو (اے نبی !) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور بعض گروہوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں آپ کہیے کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ شرک نہ کروں اسی کی طرف میں بلا رہا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے
اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے عربی میں قول فیصل بنا کر اور (اے نبی !) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے تو نہیں ہوگا آپ کے لیے بھی اللہ کی طرف سے نہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا
اور ہم نے بھیجا رسولوں کو آپ سے پہلے بھی اور ہم نے بنائیں ان کے لیے بیویاں بھی اور اولاد بھی اور کسی رسول کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ کوئی نشانی (معجزہ) لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔ ہر شے کے لیے ایک مقرر وقت لکھا ہوا ہے
اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس ہے اُمّ الکتاب
اور خواہ ہم دکھا دیں آپ کو اس کا کچھ حصہ جس کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ کے ذمہ تو پہنچانا ہی ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں اس کے کناروں سے اور اللہ ہی فیصلہ کرتا ہے کوئی نہیں پیچھے ڈالنے والا اس کے حکم کو اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
اور جو ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی بڑی چالیں چلی تھیں لیکن ساری کی ساری تدبیریں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں وہ جانتا ہے ہر جان جو کچھ کماتی ہے۔ اور عنقریب معلوم ہوجائے گا ان کافروں کو کہ دار آخرت کی کامیابی کس کے لیے ہے
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ (اللہ کے) رسول نہیں ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور جن کے پاس کتاب کا علم ہے (وہ بھی اس پر شاہد ہیں)